سلسلہ احمدیہ — Page 421
421 صاحب کے بیان سے جو صورتِ حال پیدا ہوئی تھی، اکثر مقامات پر چند روز میں اُس پر قابو پالیا گیا۔(۱۱۱۱۱۰)۔بعد میں قائم ہونے والی تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں شورش کی یہ تفاصیل شواہد کے ساتھ جمع کر کے شائع کی گئیں۔ی طوفان بد تمیزی صرف پنجاب تک محدود تھا۔پاکستان کے دوسرے صوبوں میں ایسی صورتِ حال پیدا نہیں ہوئی تھی۔لاہور میں مارشل لاء لگنے کے اگلے ہی روز یعنی سے مارچ کو سرحد کی صوبائی اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد منظور کی جس میں سرحد کے عوام کو خراج تحسین پیش کیا کہا نہوں نے حالیہ فسادات سے دور رہ کر سیاسی تدبر کا ثبوت دیا ہے۔سرحد کے وزیر اعلیٰ خان عبد القیوم خان نے کہا ہمارے ملک میں ایسے سیاسی کھلاڑی موجود ہیں جو اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے اپنی ہوشیاری سے علماء کرام کو استعمال کر رہے ہیں۔جن لوگوں کو سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی فکر ہے وہ راہنمایانِ دین کو اپنا آلہ کار بنارہے ہیں۔(۱۱۲) حضور کا اہم پیغام : حضور نے ۸ مارچ کو جماعت کے نام اپنے پیغام میں فرمایا ریلوے اور لاریوں میں احمدیوں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔لیکن اصل خطر ناک بات یہ ہے کہ اب یہ لوگ اپنے اصل مقاصد کی طرف آ رہے ہیں۔سرکاری عمارتوں پر اور سرکاری مال پر حملہ کیا جا رہا ہے۔سرگودھا اور جھنگ کے بعض مقامات پر ہندوستان زندہ باد اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے گئے سکھیکی پر ایک ٹرین میں چڑھے ہوئے افراد نے پاکستانی فوج مردہ باد کے نعرے لگائے۔اس سے ملک دشمنی اور غداری کی روح کا صاف پتہ چلتا ہے۔۔۔۔خدائی جماعتوں پر یہ دن آیا کرتے ہیں پس گھرانے کی بات نہیں۔اپنے لیے اور اپنے ملک اور حکومت کے لئے دعا کرتے رہو۔اللہ تعالیٰ تمہارا حافظ ہو۔(۱۱۳) جب اس شورش کے کرتا دھرتا لوگوں نے دیکھا کہ اب وہ بازی ہار رہے ہیں تو ایک اور چال چلی۔انہوں نے ایسے بیانات دیئے کہ اب دولتانہ صاحب اس تحریک کی قیادت خود سنبھال لیں۔مگر