سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 415 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 415

415 جان سے مارے جاؤ گے احمدیت سے انکار کر دو اور اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے ہے جھوٹ بھی بولتے کہ فلاں فلاں اہم احمدی مرتد ہو گیا ہے۔لیکن جب بلوائیوں نے احمدیوں کو صبر و استقلال پر قائم دیکھا تو ان کی جھنجلا ہٹ میں اضافہ ہو گیا۔اب وہ احمدیوں کے خون کے پیا سے ہو کر چاقو چھریاں لے کر پھر رہے تھے کہ جہاں احمدی نظر آئے تو اسے قتل کر دیا جائے یا پھر احمدیوں کو اغوا کر کے لے جاتے تا کہ ان سے کلمہ پڑھوائیں۔یہ بد نصیب بلوائی اتنا نہیں سمجھتے تھے کہ یہ احمدی ہی تھے جو پوری دنیا کو دلائل سے قائل کر کے کلمہ پڑھوانے کے لئے دن رات کام کر رہے تھے ورنہ ان کے قائدین کو کبھی توفیق نہیں ہوئی تھی کہ دنیا میں اسلام کی تبلیغ کے لئے بھی کچھ کوشش کرتے۔بعض جگہ پر لوگوں نے قسمیں کھائیں کہ ان میں سے ہر ایک، ایک احمدی کو قتل کرے گا۔جب جلوس کسی جگہ پر پہنچتا تو بسا اوقات ارد گرد کے لوگ اُن کی راہنمائی کرتے تا کہ انہیں احمدیوں کا گھر ڈھونڈنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔یہ تھی ہمسایوں کے حقوق کی ادائیگی۔کئی غیر احمدی رشتہ دار آتے تو بجائے ہمدردی کرنے کے دھمکیاں دے کر رخصت ہوتے۔اُن دنوں میں پنجاب کا معاشرہ عمومی طور پستی کی اس حالت کو پہنچ چکا تھا کہ سکول کے بچے بھی اس غلاظت میں دھنسنا شروع ہو گئے اور ایسے نظارے بھی دیکھے گئے کہ سکول کے بچوں نے معصوم احمدی بچوں کو مار پیٹ کر زخمی کر دیاحتی کہ بچیوں نے بھی احمدی بچیوں کو مارا پیٹا اور گالیاں دیں۔جب بلوائی احمد یوں کے گھروں یا دیگر عمارات پر حملہ آور ہوتے تو اکثر اوقات پولیس کے چند سپاہی جو وہاں پر کھڑے ہوتے وہاں سے غائب ہو جاتے اور پولیس با وجود ر پورٹ کرنے کے مدد کو نہ آتی۔ایسا بھی ہوا کہ جب احمدی رپورٹ کرنے کے لئے پولیس اسٹیشن پہنچے تو دیکھا کہ پولیس والے فون پر فخر سے احمدیوں پر ہونے والے مظالم چسکے لے لے کر سنا رہے ہیں۔اور مولوی دن رات لوگوں کو اکسا رہے تھے کہ قتل وغارت باعث ثواب ہے۔(۱۰۲) ہر صاحب شعور کو یہ نظر آ رہا تھا کہ اسلام کے نام پر چلائی جانے والی اس تحریک میں شامل ہونے والے گرے ہوئے اخلاق کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔چنانچہ ۵ مارچ کو روز نامہ مغربی پاکستان نے لکھا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ تحریک غلط ہاتھوں میں جا کر خوفناک صورت اختیار کرے۔