سلسلہ احمدیہ — Page 408
408 نے ایک ذلت آمیز معافی نامے پر دستخط کئے جس میں انہوں نے تحریک ختم نبوت کی موجودہ روش کے خلاف بہت کچھ لکھا۔تب جا کر ان کی جان بخشی ہوئی اور ان کے اخبار کو جاری رہنے دیا گیا۔اور وہ اپنے گاؤں کرم آباد چلے گئے۔(۹۱) پنجاب میں شدید فسادات کا آغاز : اب حکومت اور بلوائیوں کی ٹکر نا گزیر ہو چکی تھی۔۲۸ فروری کو لاہور میں پانچ چھ ہزار کا جلوس نکلا اور چونتیس رضا کاروں نے گرفتاریاں پیش کیں اور مقامی افسران نے فیصلہ کیا کہ جلسے جلوسوں پر پابندی لگا دی جائے۔اسی روز پنجاب میں جہلم، راولپنڈی، لائل پور، منٹگمری اور شیخو پورہ کے شہروں میں گرفتاریوں کے خلاف ہڑتال ہوئی (۹۲) ۲۸ فروری کو حضور نے جماعت احمدیہ کے نام ایک پیغام بھجوایا اور اس میں احراری لیڈروں کی گرفتاری کا ذکر فرما کے جماعت کو ارشاد فرمایا دممکن ہے بعض کمزور طبع احمدی ان خبروں کو سن کر مجالس یا ریلوے سفروں میں یا لاری کے سفروں میں یا تحریر یا تقریر کے ذریعہ سے ایسی لاف زنی کریں جس میں کہ ان واقعات پر خوشی کا اظہار ہو۔اور بعض طبائع میں اس کے خلاف غم وغصہ پیدا ہو۔اس لئے ہو۔اس میں تمام احباب کو ان کے اخلاقی اور مذہبی فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ایسے دن جب آتے ہیں تو مومن خوشی اور لاف و گزاف سے کام نہیں لیتے بلکہ دعاؤں اور استغفار سے کام لیتے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ ان کے گند بھی صاف کرے اور اور ان کے مخالفین کو بھی سمجھ دے کہ آخر وہ بھی ان کے بھائی ہیں۔۔۔اللہ تعالیٰ نے ایک لمبے عرصہ کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کو آزادی اور حکومت بخشی ہے۔ہماری کوشش ہونی چاہئیے کہ حکومت کو ضعف نہ پہنچے۔اور خدا تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئیے کہ ہمیں اور دوسرے پاکستانی مسلمانوں کو وہ ایسے اعمال کی توفیق دے کہ جس سے پاکستان مضبوط ہو۔(۹۳) اس ابتلاء کے دوران جماعت احمد یہ دن رات کوشش کر رہی تھی کہ کسی طرح سچائی لوگوں کے علم میں آتی رہے اور ملک دشمن عناصر اپنی مذموم سازش میں کامیاب نہ ہوں۔مخالفین کے پراپیگنڈا اور سازشوں کا رد کیا جا رہا تھا۔ان دنوں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی با وجود بیماری اور کمزور صحت کے دن