سلسلہ احمدیہ — Page 402
402 احمدیوں کو اقلیت قرار دیئے ہوئے بھی تیس برس سے اوپر کا عرصہ بیت گیا جماعت ختم ہونے کی بجائے ترقی پر ترقی کرتی گئی۔اللہ تعالیٰ نے مخالفین کی کوئی حسرت باقی نہیں چھوڑی کہ وہ یہ سوچیں کہ اگر یہ ہو جاتا تو احمدیت ختم ہو جاتی ، اگر وہ ہو جاتا تو احمدیت ختم ہو جاتی۔کیونکہ یہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا تھا۔دنیا کا کوئی ہاتھ اسے تباہ نہیں کرسکتا۔مخالفت کا رخ وزیر اعظم کی طرف ہوتا ہے: بہر حال اُس وقت یہ ٹولہ یہی سوچ رہا تھا کہ راستے میں صرف خواجہ ناظم الدین حائل ہیں۔اگر اُن کی جگہ ہمارا کوئی آدمی ہوتا تو خوب تھا۔چنانچہ اب اُن کے خلاف پرانے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے۔بہاولپور میں منعقدہ تحفظ ختم نبوت کنونشن میں ایک مقرر نے کہا د تم ظفر اللہ کو کہتے ہو مگر ناظم الدین کو نہیں کہتے ہو جس نے ظفر اللہ کو گود میں جگہ دے رکھی ہے۔۔۔جب تک مرزائیت کو ختم نہ کیا گیا تو یہ ملک ہرگز ہرگز نہیں محفوظ رہ سکتا۔جب تک ناظم الدین ہے مرزائیت کا استیصال ناممکن ہے۔مرزائیت کے استیصال کے لئے پہلے ناظم الدین کو نکالنا ضروری ہے۔(۷۸) اب دل کی بات منہ پر آرہی تھی۔اصل مقصد تو اقتدار اعلیٰ پر قبضہ تھا۔وٹوں سے نہ مل سکا تو چور دروازے کا راستہ اختیار کیا گیا۔یہ علیحدہ بات ہے کہ خواجہ ناظم الدین کو وزارت عظمی سے علیحدہ ہوئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ بیت گیا مگر ان کے من کی مراد پھر بھی نہ پوری ہوئی۔وزیر اعظم کو جماعت احمدیہ کے خلاف فیصلہ کرنے پر مجبور کرنے کے لئے احرار اپنے پرانے ہتھکنڈے استعمال کر رہے تھے۔کراچی میں تقریر کرتے ہوئے ،عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب نے کہا مجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا خواجہ ناظم الدین بھی مرزا بشیر الدین محمود کے ہاتھ پر بیعت کر کے مرزائی ہو گئے ہیں۔مجھے خصوصی حلقوں سے معلوم ہوا ہے کہ خواجہ ناظم الدین اور مرزائیوں کے درمیان کوئی رشتے ناطے بھی ہو چکے ہیں۔اگر یہ صحیح ہے تو مسلمان اسے کسی قیمت پر بھی برداشت نہیں کریں گے۔(۷۹) اب یہ لوگ وزیر اعظم کی تحقیر و تضحیک کے لئے ، اپنی تقریروں میں بھوکا بنگالی ، چٹو وٹا،