سلسلہ احمدیہ — Page 401
401 مسلمان کا ہونا چاہئیے۔میرے نزدیک وہ تمام لوگ خارج از اسلام ہیں۔جو رسول کریم صلعم کو آخری نبی نہیں مانتے۔اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ کہتا ہوں کہ عقیدہ ختم نبوت پر کوئی بحث اُٹھانا کفر کے برابر ہے۔کیونکہ بحث کی گنجائش صرف اس مسئلے میں ممکن ہے جس میں کسی قسم کا شبہ وارد ہوتا ہو۔عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا جزو ہے۔اس لئے ہر بحث اور منطق سے بالا تر ہے۔مرزائیوں کے خلاف جو نفرت پیدا کی گئی ہے اس کی ذمہ داری خود انہی پر ہے کیونکہ ان کے رحجانات علیحدگی پسندانہ ہیں۔(۷۵) مخالفین سلسلہ کی سطحی سوچ اُن کو سبز باغ دکھا رہی تھی۔وہ اِن خیالوں میں تھے کہ اگر کسی طرح چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کو وزارتِ خارجہ سے ہٹا دیا جائے اور احمدیوں کو اقلیت قرار دے دیا جائے تو اُن کے خلاف نفرت کی ایسی فضا قائم ہو چکی ہے کہ پھر احمدیت کا خاتمہ یقینی ہے۔اکتوبر ۱۹۵۲ء میں لائکپور میں ایک کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلس احرار کے مرکزی صدر تاج الدین انصاری صاحب نے بڑے اعتماد سے اعلان کیا دسنو میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں۔جس دن ظفر اللہ وزارتِ خارجہ سے علیحدہ ہو گیا۔تو اس روز آدھے مرزائی مسلمان ہو جائیں گے اور جس روز ان کو اقلیت قرار دے دیا گیا۔اس روز مرزا بشیر الدین محمود ڈھونڈتے پھریں گے کہ میرے ابا کی امت کہاں گئی ہے۔(۷۶) اسی طرح جب شیعہ سنی بریلوی، اہلِ حدیث وغیرہ سب نے مل کر جماعت احمدیہ کے خلاف آل پارٹیز مسلم کا نفرنس قائم کی تو اس کا ایک اجتماع راولپنڈی میں بھی منعقد کیا گیا۔اس میں بڑے طمطراق سے یہ اعلان کیا گیا د تم دیکھو کہ جس روز اعلان ہوا کہ سر ظفر اللہ گئے۔اسی روز پچاس فیصدی مرزائی ادھر آجائیں گے۔اور باقی ادھر آنا شروع ہو جائیں گے۔مرزائی مذہبی جماعت نہیں ہے۔سیاسی ٹولی ہے۔یہ سائیکولوجی ہے۔سیاسی ٹولی کا ذہن منفعت کی طرف جاتا ہے۔(۷۷) آج چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو مستعفی ہوئے پچاس برس سے زائد عرصہ گذر چکا ہے۔آدھی جماعت تو ایک طرف رہی ، ایک احمدی نے بھی اس وجہ سے ارتداد کی لعنت کو قبول نہیں کیا۔اور