سلسلہ احمدیہ — Page 400
400 ظفر اللہ خان صاحب نے ایک بیان جاری فرمایا ، جس میں آپ نے فرمایا۔۔۔۔میں اس امر کو خلاف دیانت اور خلاف تعلیماتِ اسلامی سمجھتا ہوں کہ کوئی شخص اپنے سرکاری عہدہ و اختیار کو بالواسطہ یا بلا واسطہ استعمال کر کے اپنے مذہبی عقائد کو زبر دستی دوسروں پر منڈھ دے۔یا اسی قسم کے اثر و نفوذ سے کام لے کر کسی شخص کو اس کے حقیقی عقائد ترک کرنے پر مجبور کرے۔میں جس جماعت سے تعلق رکھتا ہوں اس میں اس اصول کی وسیع تعلیم دی جاتی ہے۔اگر مجھے یہ معلوم ہو کہ اس جماعت کا کوئی فرداس صحیح اور مفید اصول کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو یقیناً مجھے بے حد حیرت اور اذیت ہوگی۔۔۔۔اس معاملے کا ایک اور پہلو بھی ہے۔جس جماعت کے خلاف بعض حلقے جو عظیم اکثریت ہونے کے دعویدار ہیں برابر غلط بیانی اور جبر وظلم میں مصروف ہیں۔اس جماعت کے ارکان اس قسم کے طور طریقے اختیار کر ہی نہیں سکتے۔مجلس عمل کے اراکین دوبارہ وزیر اعظم سے ملے۔اب وزیر اعظم نے ان کے مطالبات تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا۔اس دوران حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے وزیر اعظم کو ایک سے زائد مرتبہ اپنے استعفے کی پیش کش کی لیکن وزیر اعظم نے کہا کہ اس سے حالات اور بگڑ جائیں گے۔(۷۴) دولتانہ صاحب کی بیان بازی مخالفین کی خام خیالی علماء تو وزیر اعظم صاحب کے خلاف بھڑک اُٹھے لیکن اس صورتِ حال نے دولتانہ صاحب کو ایک موقع فراہم کر دیا کہ وہ ایوان وزیر اعظم کی طرف اپنے قدم بڑھا ئیں۔جیسا کہ تحقیقاتی عدالت نے اپنی رپورٹ میں لکھا انہوں نے حضوری باغ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا آج دنیا بھر میں پاکستان ہی ایک ایسا ملک ہے جو اسلامی حکومت قائم کرنے کا دعویدار ہے۔تمام دنیا ہمارے اس تجربے کو غور سے دیکھ رہی ہے۔اور اگر ہم اس ذمہ داری کی تکمیل میں ناکام رہ گئے تو دنیا کو یہ کہنے کا موقع مل جائے گا کہ دنیا میں حکومت کی اسلامی ہیئت کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ختم نبوت کے مسئلے میں میرا وہی عقیدہ ہے جو ایک