سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 387 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 387

387 ہے جو احمدیت کی مخالفت پر تلا ہوا ہے۔بہت سی باتیں تم جانتے بھی نہیں اور بہت سی باتیں ہم تمہیں بتانا بھی نہیں چاہتے۔اس لئے اگر ان باتوں کو ظاہر کیا جائے تو ہمارے مقابلہ کی طاقت کمزور پڑ جائے گی۔۔۔اس قسم کے نازک مواقع پر میں جماعت کو اتنے حصہ میں شریک کرتا رہا ہوں۔کہ میں انہیں دعا کی طرف تحریک کیا کرتا ہوں۔اور مخلصین نے ہمیشہ میری اس تحریک کو قبول کیا ہے۔“ اس کے بعد حضور نے جماعت کو چالیس روز کے لئے خاص دعاؤں کی تحریک فرمائی اور فرمایا کہ اس دوران احمدی سات روزے رکھیں۔اور نوافل اور تہجد میں خاص طور پر سلسلے کے لئے دعائیں کریں۔(۴۴) پنجاب مسلم لیگ کے اراکین کی مخالفت: مارچ ۱۹۵۱ء میں پنجاب میں انتخابات کا عمل مکمل ہوا اور ممتاز دولتانہ صاحب پنجاب کے نئے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔۶ اکتو بر ۱۹۵۱ء کو راولپنڈی کے ایک جلسہ عام میں وزیر اعظم لیاقت علی خان صاحب ایک قاتل کی گولی کا نشانہ بن گئے اور خواجہ ناظم الدین صاحب کو ملک کا نیا وزیر اعظم منتخب کر لیا گیا۔لیکن دولتانہ صاحب کے سیاسی عزائم بلند تھے۔اب اُن کی نظریں ملک کے سب سے بڑے عہدے پر تھیں۔لیکن یہ خواہش اُس وقت تک پوری نہیں ہو سکتی تھی جب تک مرکز میں وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب کی حکومت مستحکم تھی۔دولتانہ صاحب نے سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کا ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کیا لیکن ابھی یہ حقائق پر دے میں تھے۔البتہ اُن کے منتخب ہونے کے ساتھ یہ تبدیلی ضرور نظر آنے لگی کہ مسلم لیگ کے ممبران صوبائی اسمبلی اب احرار کے جلسے جلوسوں میں بینڈ باجوں کے ساتھ شرکت کر رہے تھے۔پنجاب کے اعلیٰ سرکاری افسران بھی جماعت کے خلاف ہونے والے جلسوں کی صدارت کرنے لگے۔ایک سے زیادہ مرتبہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر نے ان جلسوں کی صدارت کی اور ان جلسوں میں یہاں تک الزامات لگائے گئے کہ احمدیوں نے وزیر اعظم کا قتل کرایا ہے۔اب احرار کے مطالبات میں بھی شدت آتی جارہی تھی۔وہ یہ مطالبہ تو کر رہے تھے کہ احمدیوں کو اقلیت قرار دیا جائے لیکن اس کے ساتھ یہ راگ بھی الاپنے لگے تھے کہ احمدیوں کو ملک