سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 386 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 386

386 ہیں۔لیکن اس حالت میں انہوں نے اسلامی قانون کے مطالبے پر زور دینے کی بجائے احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی حمایت کی۔جولائی ۱۹۵۲ء میں جماعت اسلامی کی مجلس شوری میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں احمدیوں کو ایک ذمی اقلیت قرار دینے کی حمایت کی گئی۔اور ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ خالص اسلامی دستور نافذ کیا جائے اور اس میں مسلم اور ذمی کی تعریف کی جائے۔اس طرح قادیانیوں کی جدا گانہ حیثیت واضح ہو جائے گی۔اسی قرار داد میں یہ الزام لگایا گیا کہ مسلم لیگ قادیانیوں کی پشت پناہی کر رہی ہے (۴۳)۔مسلم لیگ پر نیش زنی کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ احمدیوں کے خلاف شورش برپا کرنے کا اصل مقصد حصول اقتدار تھا۔اگر ان کے مطالبات تسلیم کر لئے جاتے لیکن ایوانِ اقتدار پر قبضہ نہ ہوتا تو ان کے اصل مقاصد حاصل نہ ہوتے۔اس لئے احمدیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے علاوہ برسر اقتدار پارٹی پر الزام تراشی کرنا بھی ضروری تھا۔دعاؤں کی تحریک: اس مرحلے پر جماعت احمد یہ ہر ممکن طریق پر دلائل سے مخالفین کی نیش زنی کا جواب دے رہی تھی تا کہ کم از کم شرفاء کا طبقہ ان کی افترا پردازیوں سے متاثر نہ ہو۔حکومت کو بھی ان کی شرارتوں سے مطلع رکھا جا رہا تھا۔لیکن یہ تو ظاہری تدابیر تھیں۔ہر ابتلاء میں جماعت کا سب سے اہم ہتھیار دعا ہی رہا ہے۔چنانچہ حضور نے جماعت کو دعاؤں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔ہماری جماعت پر بھی یہ مصائب مختلف رنگوں اور مختلف زمانوں میں آئے ہیں۔ہم پر وہ وقت بھی آیا جب ہماری مخالفت اتنی شدید ہوگئی کہ اس کا مقابلہ ہماری طاقت سے بالا تھا۔ایسے موقع پر ہم نے ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور اسی سے مدد مانگی۔اور جب ہماری دعائیں اور گریہ وزاری اس مقام پر پہنچ گئی۔جب عرش بھی ہل جایا کرتا ہے تو وہ سنی گئیں اور مخالفت هَبَاء مُنبٹا ہو کر رہ گئی۔یہ زمانہ بھی ہم پر ایسا آ رہا ہے۔جب اندونی اور بیرونی طور پر اور نیز بعض حکام کی طرف سے بھی اور رعایا کی طرف سے بھی۔علماء کی طرف سے بھی اور امراء کی طرف سے بھی غرض ہر جتھہ اور ہر گروہ میں ایک حصہ ایسا