سلسلہ احمدیہ — Page 385
385 اور مجاہدوں کے ذریعہ ایک ایسا جہاد کرنے کی تلقین کی جس میں غیروں کو قرآنی معارف اور دلائل سے قائل کیا جائے۔اور انہی دلائل اور خوارق کے ہتھیاروں سے باطل کا استیصال کیا جائے۔اور یہ تبلیغ بھی نرمی اور عاجزی سے کی جائے۔پاکستان بننے سے قبل وہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان کی حکومت ایک کافرانہ حکومت ہی ہوسکتی ہے۔پاکستان بننے کے بعد انہوں نے حصولِ اقتدار کے لئے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی پاکستان میں حکومتِ الہی قائم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔اس بنیاد پر انتخابات میں حصہ لیا تو ایک نشست بھی نہ ملی۔پہلے جماعت اسلامی کے دستوری مطالبات کے آٹھ نکات تھے۔ابھی انہوں نے جماعت کے خلاف اپنے عزائم کھلم کھلا ظاہر نہیں کئے تھے۔جب انہیں نظر آیا کہ جماعت کی مخالفت کا طوفان اُٹھ رہا ہے اور اب وقت ہے کہ مسئلہ ختم نبوت کی آڑ لے کر سیاسی فوائد حاصل کئے جائیں تو ان مطالبات میں ایک اور کا اضافہ کر کے جماعت کے مخالف شق بھی اپنے مطالبات میں شامل کر لی۔اور احرار کے شانہ بشانہ جماعت کے خلاف شورش بر پا کرنے لگے۔خاص طور پر حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی شخصیت ان کے حملوں کا نشانہ بن رہی تھی۔جماعت اسلامی کی مجلس عاملہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو وزارتِ خارجہ سے ہٹایا جائے اور اس کی وجہ یہ بیان کی کہ ملک کی بڑی اکثریت کو ان پر اعتماد نہیں (۴۳)۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ اُن کے نزدیک حضرت چوہدری صاحب کو تو اس لئے برطرف کر دینا چاہئیے تھا کیونکہ ان کا دعویٰ تھا کہ ملک کی اکثریت کو ان پر اعتماد نہیں ہے۔لیکن جماعت اسلامی کی اپنی مقبولیت کا یہ حال تھا کہ انتخابات میں انہیں ایک بھی نشست نہیں ملی تھی۔مگر عوامی حمایت سے محروم ہونے کے باوجود وہ یہ سمجھتے تھے کہ انہیں اختیار ہے کہ ملک کے متعلق ہر فیصلہ وہ کریں اور حکومت انہیں تسلیم نہ کرے تو پھر شورش کا راستہ اختیار کریں۔بہر حال مصلحت وقت ہمیشہ جماعت اسلامی کے اصولوں کو بدلتی رہی ہے۔۱۹۵۲ء میں انہوں نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ اسلامی قانون پہلے نافذ ہونا چاہئیے اور اس کے ساتھ ہی احمدیوں کو ذمی اقلیت قرار دینا چاہیے۔لیکن ۱۹۷۴ء میں انہوں نے اس اصول کو بھی الوداع کہہ دیا اور جبکہ اس وقت ان کے نزدیک اسلامی قانون نافذ نہیں ہوا تھا بلکہ اس پارٹی کی حکومت تھی جن کے لیڈروں کے متعلق جماعت اسلامی کا دعویٰ تھا کہ وہ اسلام سے بالکل لاتعلق