سلسلہ احمدیہ — Page 382
382 ۱۹۵۰ء میں ملتان میں انہوں نے ایک بڑی کانفرنس کا اہتمام کیا۔جب احراریوں کے امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب اس کا نفرنس میں آئے تو لوگوں کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اُنہوں نے لال قمیص پہنی ہوئی تھی جو اُن کی سیاسی سرگرمیوں کی علامت تھی۔لوگوں نے دریافت کیا کہ آپ نے تو سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا تھا۔اس پر بخاری صاحب نے مسکرا کر کہا کہ ا بھی تو میں زندہ ہوں اور یہ قمیص میری سیاسی زندگی کا نشان ہے۔سیاست مذہب کا جزو ہے اور ہم نے تو صرف الیکشنوں سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔(۳۹) احمدیوں کی تبلیغ پر پابندی لگانے کا مطالبہ: مخالفین سلسلسہ بالعموم دلائل سے مقابلہ کرنے سے کتراتے ہیں۔کیونکہ اُن کے پاس جماعت کے دلائل کا جواب نہیں ہوتا۔اس لئے اُن کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ کسی طرح جماعت احمدیہ کی تبلیغ پر پابندی لگ جائے۔یعنی وہ تو جتنا چاہیں زہر انگلیس لیکن احمدیوں کو یہ اجازت نہیں ہونی چاہئیے کہ وہ اُن کا جواب دیں۔یا اپنے عقائد کے حق میں دلائل دیں۔چنانچہ اسی کا نفرنس میں بڑے زور سے یہ مطالبہ پیش کیا گیا گورنمنٹ کے بعض افسر اور بعض تعلیمیافتہ حضرات کو اکثر یہ کہتے سنا گیا ہے کہ آخر مسلمانوں کی طرح مرزائیوں کو بھی تبلیغ کا حق حاصل ہے۔میں ان لوگوں کی توجہ کے لئے پوری ذمہ داری سے علی الاعلان کہتا ہوں انہیں غور سے سن لینا چاہئیے کہ مسلمانوں کی سلطنت میں یہودی اور عیسائی اپنے خیالات کی تبلیغ کر سکتا ہے۔اور دوسرے کا فروں کو بھی اجازت دی جا سکتی ہے۔مگر یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ اسلامی سلطنت میں ایک مرتد کو بھی کفر وارتداد کی تبلیغ کی اجازت دی جائے۔“ اس جلسے میں شرکاء سے کہا گیا کہ وہ کسی مقام پر بھی احمدیوں کا جلسہ نہ ہونے دیں۔(۴۰) گویا ان کے نزدیک یہودی اور عیسائی تو پاکستان میں مسلمانوں کو یہودی یا عیسائی بنا سکتے ہیں۔لیکن احمدی تبلیغ نہیں کر سکتے کیونکہ اگر لوگ احمدی ہوں گے تو یہ کفر وارتداد ہو گا ، جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔لیکن یہ بات نا قابل فہم ہے کہ اگر مسلمان اپنا مذہب تبدیل کر کے عیسائی یا یہودی بن جائیں