سلسلہ احمدیہ — Page 381
381 انہوں نے قادیانیوں کو بہت برا بھلا کہا۔یہ بات ہی خلاف عقل تھی۔خواجہ صاحب عرصہ پچاس سال سے جماعت کو جانتے تھے بلکہ حضرت مسیح موعود اور حضرت مصلح موعودؓ سے ذاتی تعارف رکھتے تھے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ انہیں جماعت کے عقائد کا ہی علم نہ ہو۔(۳۵) اپنی کامیابیوں کے جھوٹے دعوے اور سیاست میں واپسی : اب احراریوں نے اپنی تحریک کے کچھ نتائج بھی دنیا کے سامنے پیش کرنے تھے۔یہ بھی دکھانا تھا کہ اب تک ہماری تحریک نے احمدیت کی ترقی پر کیا اثرات ڈالے ہیں۔اس کے لئے بھی انہوں نے اپنے پرانے اور آزمودہ ہتھیار جھوٹ کا سہارا لیا۔چنانچہ 4 جولائی ۱۹۵۰ء کو ان کے اخبار آزاد نے بڑے فخر سے یہ خبر شائع کی کہ احراریوں کی چھ ماہ کی سرگرمیوں نے ساٹھ سالہ قادیانی قصر کو سر سے جڑ تک ہلا دیا ہے اور اس کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ مرزائیوں نے ربوہ کی تعمیر بالکل بند کردی ہے۔(۳۶) ایک تو یہ جھوٹ بولا اور پھر یہ بھول بھی گئے کہ ہم یہ جھوٹ بول چکے ہیں۔اس کے چار روز بعد ہی اسی اخبار نے یہ خبر شائع کی کہ قادیانیوں کا عظیم الشان نیا مرکز بجلی کی رفتار سے تیار ہو رہا ہے۔اور تو اور اس خبر میں ربوہ کا رقبہ بھی دس ہزار ایکٹر بیان کیا گیا جب کہ اصل میں یہ رقبہ ایک ہزارا یکڑ تھا۔(۳۷) اس کے علاوہ بعض احمدیوں کے ارتداد کی غلط خبریں بھی شائع کی گئیں تا کہ عوام الناس پر یہ تاثر ڈالا جا سکے کہ احرار کی شورش کو بہت کامیابی مل رہی ہے۔لیکن جماعتی جرائد بالخصوص الفضل میں ان خرافات کا موثر جواب شائع ہوتا رہا۔جس سے کم از کم انصاف پسند طبقے پر حقیقت آشکار ہوتی رہی۔الفضل نے اس پر آشوب دور میں جس دلیری کے ساتھ مخالفین کے تمام اعتراضات کا جواب دیا اور ان کا تعاقب کیا ، وہ تاریخ احمدیت کا ایک درخشندہ باب ہے۔(۳۸) جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد، اپنی ناکامیوں کے پیش نظر احرار نے اعلان کیا تھا کہ اب وہ سیاست سے دستبردار ہو رہے ہیں۔اب اُن کی جماعت صرف ایک مذہبی جماعت کی حیثیت سے کام کرے گی۔لیکن یہ صرف ملمع سازی تھی۔انتخابات میں مسترد ہونے کے بعد وہ چور دروازے سے مذہب کا نام لے کر سیاسی دنیا میں داخل ہونا چاہتے تھے اور اس غرض کے لئے جماعت کے خلاف یہ مہم چلائی جارہی تھی۔مگر حقیقت زیادہ دیر چھپی نہیں رہسکتی تھی۔چنانچہ دسمبر