سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 28 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 28

28 انہیں خرابی صحت کے باعث واپس جانا پڑا۔۱۹۲۲ء سے لے کر ۱۹۳۴ء تک نائیجیریا میں کوئی مرکزی مبلغ موجود نہیں تھا۔۱۹۳۴ء میں حضرت مصلح موعوددؓ کے حکم پر مکرم فضل الرحمن حکیم صاحب کو نائیجیریا بھجوایا گیا۔آپ نے لیگوس پہنچ کر از سر نو جماعت کی تربیت کا کام شروع کیا۔نائیجیریا کے تین اسٹنٹ مبلغین آپ کے ماتحت کام کر رہے تھے۔مکرم فضل الرحمن حکیم صاحب کی آمد پر یہ افسوسناک صورتِ حال پیدا ہوئی کہ نائیجیریا کی جماعت کے ایک حصے نے مرکزی نظام کے تحت کام کرنے سے انکار کر دیا۔اس منحرف گروہ کی طرف سے فضل الرحمن حکیم صاحب اور دیگر احمد یوں پر مقدمات دائر کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا اور مطالبہ کیا کہ عدالت مرکز سے وابستہ احمدیوں کو احمدیت سے مرتد قرار دے اور جماعت کی تمام املاک کا مالک ان منحرفین کو قرار دیا جائے۔کچھ مقدمات تو خارج کئے گئے اور کچھ میں عدالتوں نے منحرفین کے حق میں فیصلہ دے دیا۔اس ابتلاء کے علاوہ اندرونی فتنے بھی مشکلات میں اضافہ کر رہے تھے۔مگر اس ماحول میں بھی محدود پیمانے پر تبلیغ کا کام شروع کر دیا گیا تھا۔انفرادی ملاقاتوں، لیکچروں،اشاعت لٹریچر اور تربیتی کلاسوں کے ذریعہ تبلیغ و تربیت کا کام ہو رہا تھا۔جماعت کا ایک اسکول بھی کام کر رہا تھا۔مگر مذکورہ ابتلاؤں اور مالی دشواریوں کے باعث زیادہ تر کوششیں لیگوس تک محدود تھیں۔یہ صورتِ حال اس وقت بدلنی شروع ہوئی جب دسمبر ۱۹۳۸ء میں فضل الرحمن حکیم صاحب نے نائیجیریا کے مختلف مقامات کا تفصیلی دورہ کیا۔اس دورہ میں آپ ابادان، ایفے (lfe) ، اوو (Owo)،انڈ و(Ondo) کے شہروں میں گئے۔یہاں پر آپ کے بہت سے تبلیغی لیکچر ہوئے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ان شہروں کے چیف صاحبان نے عقائد کے اختلافات کے باوجود عالی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مبلغ سلسلہ سے ہر قسم کا تعاون کیا۔اور ایفے ، انڈو اور اوو کے چیف صاحبان نے جماعت کے لئے زمین کے قطعات کا تحفہ بھی پیش کیا۔صرف اس دورے کے دوران جتنی بیعتیں ہوئیں وہ گذشتہ پانچ سال میں بھی نہیں ہوئیں تھیں۔۱۹۴۰ء کے آغاز تک مرکز سے منحرفین کے جس حصے نے علیحدہ ہونا تھا وہ علیحدہ ہو گئے اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ارشاد فرمایا کہ نیا نظام قائم کر کے کام شروع کیا جائے۔چنانچہ اس کے بعد سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے نائیجیریا کی جماعت کا ایک نیا دور شروع ہوا۔(۳ تا ۸)