سلسلہ احمدیہ — Page 360
360 تو اس کا جواب یہ ہے کہ اخراجات جنگ سب قوموں کو خود برداشت کرنے چاہئیں اور یہ بوجھ ہر گز زیادہ نہیں ہوگا۔اول تو اس وجہ سے کہ مذکورہ بالا انتظام کی صورت میں جنگیں کم ہو جائیں گی اور کسی قوم کو جنگ کرنے کی جراءت نہ ہوگی۔دوسرے چونکہ اس انتظام میں خود غرضی اور بوالہوس کا دخل نہ ہوگا سب اقوام اس کی طرف مائل ہو جائیں گی اور مصارف جنگ اس قدر تقسیم ہو جائیں گے کہ ان کا بوجھ محسوس نہ ہوگا۔تیسرے چونکہ اس انتظام کا فائدہ ہر اک قوم کو پہنچے گا کیونکہ کوئی قوم نہیں جو جنگ میں مبتلا ہونے کے خطرہ سے محفوظ ہو اس لئے انجام کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ خرچ موجودہ اخراجات سے جو تیاری جنگ کی نیت سے حکومتوں کو کرنے پڑتے ہیں کم ہوں گے اور اگر بفرضِ محال کوئی زائد خرچ کرنا بھی پڑے تو جس طرح افراد کا فرض ہے کہ امنِ عامہ کے قیام کی خاطر قربانی کریں اقوام کا بھی فرض ہے کہ قربانی کر کے امن کو قائم رکھیں۔وہ اخلاق کی حکومت سے بالا نہیں ہیں بلکہ اس کے ماتحت ہیں۔میرے نزدیک سب فساد اسی اختلاف کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جو قرآنِ کریم کی پیش کرده تجویز سے کیا جاتا ہے۔(۱) یعنی آپس کے انفرادی سمجھوتوں کی وجہ سے جو پہلے سے کئے ہوتے ہیں۔حالانکہ ان کی بجائے سب اقوام کا ایک معاہدہ ہونا چاہئے۔(۲) جھگڑے کو بڑھنے دینے کے سبب سے۔(۳) حکومتوں کے جنبہ داری کو اختیار کر کے ایک فریق کی حمایت میں دخل دینے کے (۴) شکست کے بعد اس قوم کے حصے بخرے کرنے اور ذاتی فوائد اٹھانے کی خواہش کے پیدا ہو جانے کے سبب سے۔(۵) امن عامہ کے لئے قربانی کرنے کے لئے تیار نہ ہونے کے سبب سے۔ان پانچوں نقائص کو دو کر دیا جائے تو قرآنِ کریم کی بتائی ہوئی لیگ آف نیشنز بنتی ہے اور اصل میں ایسی ہی لیگ کوئی فائدہ بھی دے سکتی ہے نہ وہ لیگ جو اپنی ہستی کے قیام کے لئے لوگوں کی مہربانی کی جستجو میں بیٹھی رہے۔(۱)