سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 354 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 354

354 شیخ کے زیر قیادت ۱۰۰ برگیڈ کا حصہ بنا دیا گیا۔ایک مخلص احمدی کرنل محمد حیات قیصرانی اس بٹالین کی قیادت کر رہے تھے۔باوجود اس کے کہ ان رضا کاروں کی ٹریننگ نہ ہونے کے برابر تھی انہیں بھمبر جیسے اہم سیکٹر میں ،سعد آباد وادی کے محاذ پر خدمات سپرد کی گئیں۔اس سے قبل آزاد فوج اور قبائلی دستے سعد آباد وادی میں موجود تھے اور مئی ۱۹۴۸ء میں پاکستانی فوج بھی اس سیکٹر میں ان کی مدد کو آگئی تھی۔بھمبر کے شمال مشرق میں سعد آباد وادی تھی اور سعد آباد وادی کے شمال مشرق میں نوشہرہ کے مقام پر ہندوستانی فوج کا ایک اہم مرکز تھا۔یہ وادی چھ میل لمبی اور ہم میل چوڑی ہے۔اس وادی میں فرقان بٹالین سے قبل آزاد فوج کرنل اعظم صاحب کی قیادت میں خدمات سرانجام دے رہی تھی۔مدِ مقابل فوج کو ہتھیاروں کی نمایاں برتری حاصل تھی۔اس کی طرف سے فضائی حملے بھی ہورہے تھے۔کرنل اعظم کی بٹالین کو سعد آباد وادی خالی کرنی پڑی تھی۔جون ۱۹۴۸ء کے آغاز تک سعد آباد وادی کے شمال میں عسکری لحاظ سے دو اہم مقامات جنہیں مینڈک فارمیشن اور ریچھ فارمیشن کہا جاتا تھا ، آزاد افواج اور قبائلیوں کے قبضے میں تھے۔مگر ۲ جون کو ہندوستانی افواج کے تو پخانے نے اور ہوائی جہازوں نے ان مقامات پر شدید بمباری شروع کر دی۔اس بمباری کو ایک بڑے حملے کا پیش خیمہ خیال کیا گیا اور اعظم بٹالین ، شاہین آزاد بٹالین اور خان کشمیرا خان کی فورس نے ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی یہ علاقہ بغیر مقابلے کے خالی کر دیا۔چار روز کے بعد ہندوستانی افواج نے ان مقامات پر اپنے مورچے قائم کر لئے۔آزاد فوج نے اب باغسر کی تنگ پہاڑی گزرگاہ میں مورچے سنبھالے ہوئے تھے۔اب یہ خدشہ تھا کہ اگر ہندوستانی فوج نے باغسر پر بھی تسلط حاصل کر لیا تو وہ کشمیر کے علاقے سے نکل کر پاکستان کی سرحدوں میں داخل ہو جائے گا۔اس لئے کہ اب قدرتی سرحد ختم ہو چکی تھی۔اب فرقان بٹالین نے کرنل اعظم کی بٹالین کی جگہ فرائض سنبھالنے تھے۔اس وقت ہندوستانی فوج کے گشتی حصے شب خون مارا کرتے تھے ، جس وجہ سے حالات مخدوش تھے۔۱۰ جولائی کو فرقان بٹالین محاذ کی طرف روانہ ہوئی۔موسلا دھار بارشوں کیوجہ سے راستے معدوم ہو گئے تھے، اس لئے رات کو ادیالا گالا کے قریب سیکٹر ہیڈ کوارٹر میں قیام کرنا پڑا۔نصف شب کے