سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 349 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 349

349 کی دعوت دی۔سب سے پہلے ارجنٹائن کے مندوب نے تقریر کی اور کہا کہ ان کی حکومت کسی ایسی قرارداد کی حمایت نہیں کرے گی جس میں اقوام متحدہ کے تحت رائے شماری کرانے کا حصہ شامل نہ ہو۔کسی جگہ کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا اختیار وہاں کے عوام کو ہونا چاہیے نہ کہ کسی راجہ کو۔اس کے بعد بحث اور مذاکرات کا سلسلہ چلا۔ہندوستان اس بات پر زور دے رہا تھا کہ سلامتی کونسل صرف یہ کرے کہ قبائلیوں اور رضا کاروں کو کشمیر سے واپس کرائے اور آزاد کشمیر کے لوگوں کو لڑائی سے ہاتھ روکنے کا انتظام کر دے باقی سب ہندوستان پر چھوڑ دیا جائے۔مگر سلامتی کونسل کی بھاری اکثریت نے یہ قرارداد تیار کی کہ ہندوستان اور پاکستان کی افواج مل کر امن قائم کریں۔تمام irregular forces ریاست سے نکل جائیں۔سیاسی قیدی رہا کئے جائیں۔امن قائم ہونے پر باقاعدہ افواج بھی کشمیر سے نکل جائیں۔ایک عبوری حکومت قائم کی جائے جس پر عوام اعتماد کرتے ہوں۔اور سلامتی کونسل کی نگرانی میں رائے شماری کرائی جائے کہ کشمیر کے لوگ کس ملک کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں۔یہ نتیجہ ہندوستان کی امیدوں کے برعکس تھا۔ہندوستانی وفد نے اس قرارداد پر شدید نکتہ چینی کی۔برطانیہ کے کامن ویلتھ کے وزیر نوئل بیکر اس قرارداد کی بہت حمایت کر رہے تھے اور کشمیر میں قیام امن کے لئے نمایاں کاوشیں کرتے نظر آرہے تھے۔جب رائے شماری کا وقت آیا تو ہندوستانی وفد نے یہ کہہ کر سب کو حیران کر دیا کہ اس کی حکومت نے اسے مشورے کیلئے ہندوستان طلب کیا ہے لہذا اس قرارداد پر ووٹنگ کو ان کی واپسی تک ملتوی کر دیا جائے۔بہت سے نمائندوں نے اس پر احتجاج کیا اور کولمبیا کے سفیر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ آپ کو یاد ہوگا کہ ہندوستان کے نمائندے نے شکوے کے طور پر کہا تھا کہ کشمیر جل رہا ہے اور سلامتی کونسل ستار بجا رہی ہے۔کیا میں یہ دریافت کرنے کی جرات کر سکتا ہوں کہ اب کیا کشمیر کو جلانے والی آگ ٹھنڈی ہوچکی ہے؟ اور اگر نہیں تو اب کون ستار بجا رہا ہے؟ مگر سب بے سود۔ووٹنگ کو ملتوی کرنا پڑا۔یہ تو سب نے سمجھ لیا کہ نیت بخیر نہیں۔اب پس پردہ سیاسی چالوں کا سلسلہ شروع ہوگا۔جب التواء کچھ طویل ہونے لگا تو خدشات پیدا ہوئے کہ یہ التواء مستقل صورت اختیار کر جائے گا۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا اندازہ تھا کہ یہ قرارداد اب لندن اور دلی کے درمیان زیر بحث ہے۔چنانچہ لندن پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ بدترین خدشات درست تھے اور اس معاملے میں