سلسلہ احمدیہ — Page 348
348 قرار داد شاید پاکستان کے مندوب کے لیے قابل قبول ہو لیکن میری حکومت کے لئے ان قرار دادوں کے ایک بڑے حصہ کو قبول کرنا ممکن نہیں۔انہوں نے بڑا زور دے کر کہا کہ میری حکومت کا موقف ہے کہ کشمیر جل رہا ہے اور ہم یہاں سارنگی بجا رہے ہیں۔ان کا تمام زور اس بات پر تھا کہ پہلے کشمیر میں جنگ بند کرائی جائے ، باقی معاملات بعد میں دیکھے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک بالکل بے ضررسی قرار داد ہے پاکستان کشمیر پر حملہ کرنے والوں کو مددفراہم کر رہا ہے اور اسے روکنا چاہیے۔ابھی ان کی تقریر جاری تھی کہ صدر کونسل نے اجلاس کے ختم کرنے کا اعلان کیا۔اس مسئلہ پر اگلا اجلاس ۳ فروری ۱۹۴۸ء کو کینیڈا کے مندوب کی صدارت میں شروع ہوا اور ایک بار پھر بھارت کے مندوب نے اپنی تقریر شروع کی۔انہوں نے کہا کہ قرارداد میں یہ تبدیلی کی جائے کہ کہ اس میں یہ الفاظ ہوں کہ سلامتی کونسل یہ Recommend کرتی ہے کہ کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے۔اور یہ اقوام متحدہ کے تحت نہ کرائی جائے بلکہ اس کی حیثیت ایک مبصر کی ہو اور کشمیر کی موجودہ حکومت اس رائے شماری کا انتظام کرے۔جو قرارداد سلامتی کونسل میں پیش ہوئی تھی اس کے الفاظ یہ تھے The security council is of the opinion that such a plebiscite must be organized, held and supervised under its authority۔اور یہ الفاظ بھارت کی حکومت کو منظور نہیں تھے۔اب فریقین میں ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی۔حضرت چوہدری صاحب نے جواب میں یاد دلایا کہ کشمیر کی زمین سے افواج پاکستان کے اندر حملے کر رہی ہیں۔اور جموں کے ساتھ پاکستانی علاقہ پر بھارتی ہوائی جہازوں نے پاکستان کی ہوائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔آپ نے بھارتی مندوب کے لگائے گئے الزامات کا ایک ایک کر کے جواب دیا اور پاکستان کا موقف مؤثر طریق پر پیش کیا۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی تقریر ۴ فروری کو بھی جاری رہی۔آپ نے بھارت کے وزیر اعظم کی تقریر کا حوالہ پیش کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ بھارت اقوام متحدہ کے تحت کشمیر میں رائے شماری کرانے پر تیار ہے۔سلامتی کونسل میں ایک بار پھر دونوں فریقوں نے بھر پورانداز میں اپنا موقف پیش کیا تھا۔صدر نے ایک بار پھر سلامتی کونسل کے ممبران کو اظہارِ خیال