سلسلہ احمدیہ — Page 330
330 اس کے الفاظ یہ تھے زنده باد مسلمانان کشمیر کشمیر کے غیور مسلمانوں نے مہاراجہ کی حکومت کے مقابلے پر اپنی متوازی حکومت قائم کر لی۔عارضی جمہوری حکومت کا ہیڈ کوارٹر مظفر آباد قرار پایا ہے۔اس حکومت نے اعلان کر دیا ہے کہ ہری سنگھ کو حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں رہا۔ریاست کشمیر کے تمام باشندوں کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ آج سے ہری سنگھ یا ان کے رشتہ داروں یا مقرر کردہ افسروں کا کوئی حکم نہ مانیں مسٹر انور عارضی جمہوری حکومت کے صدر منتخب ہوئے ہیں کشمیر میں مہاراجہ کی حکومت نے ان اخبارات اور رسائل کے خلاف سخت کاروائی شروع کر دی جو پاکستان کے ساتھ الحاق کی حمائت کر رہے تھے۔(۱۱) یہ تو نظر آ رہا تھا کہ مہاراجہ کشمیر کا الحاق ہندوستان کے ساتھ کر دے گا۔مگر اس راستے میں یہ مسئلہ در پیش تھا کہ کشمیر کا بیرونی دنیا سے رابطہ پاکستان سے گذر کر تھا۔باؤنڈری کمیشن نے مسلم اکثریت کا ضلع گورداسپور ہندوستان کے حوالے کر کے ہندوستان کو کشمیر سے متصل علاقہ تو مہیا کر دیا تھا لیکن ضلع گورداسپور کی تحصیل پٹھانکوٹ اور کشمیر کے درمیان کوئی پل موجود نہیں تھا۔ان مخدوش حالات میں یہ اطلاع موصول ہوئی کہ راوی کے اوپر پل بنا کر مشرقی پنجاب اور کشمیر کے درمیان رستہ بنایا جا رہا ہے۔اور اس کے ساتھ ہی اخبارات میں یہ خبریں شائع ہونے لگ گئیں کہ اس راستے کے قابل استعمال ہوتے ہی کشمیر ہندوستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دے گا۔(۱۲) مسلمانانِ کشمیر کی تحریک کے ایک اہم کارکن کیانی صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ سے جماعت کا ہوائی جہاز لے کر اس پل کی تعمیر کا معائنہ کیا تو انکشاف ہوا کہ راوی پر کشتیوں کا پل تعمیر کیا جا چکا ہے۔(۱۳) طے شدہ پروگرام کے بعد غلام نبی گل کار صاحب تمام خطرات کے باوجودسرینگر چلے گئے۔ان حالات میں یہ بہت جراءت مندانہ قدم تھا۔کیونکہ مہاراجہ کی حکومت ہر مخالف پر ہاتھ ڈال رہی تھی۔بہت سے علاقوں میں تو خون ریزی کا بازار گرم تھا۔یہاں تک کہ مشہور کشمیری لیڈر پریم ناتھ بزاز صاحب نے اپنی کتاب میں اس قدم کو بچگانہ اور عجیب و غریب قرار دیا ہے(۹) کیونکہ کچھ عرصہ بعد غلام نبی گل کار صاحب کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔لیکن گل کار صاحب کے وہاں جانے کا مقصد یہ نہیں تھا