سلسلہ احمدیہ — Page 320
320 خیال کرتا ہے کہ اس بات کے امکانات بہت کمزور ہیں۔اس کا دماغ خود کمزور ہے۔عرب اس حقیقت کو سمجھتا ہے۔عرب جانتا ہے کہ اب یہودی عرب میں سے عربوں کو نکالنے کی فکر میں ہیں۔اس لئے وہ اپنے جھگڑے اور اختلاف کو بھول کر یہودیوں کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہو گیا ہے۔مگر کیا عربوں میں یہ طاقت ہے؟ کیا یہ معاملہ صرف عرب سے تعلق رکھتا ہے۔ظاہر ہے کہ نہ عربوں میں اس معاملہ کی طاقت ہے اور نہ یہ معاملہ صرف عربوں سے تعلق رکھتا ہے۔سوال فلسطین کا نہیں سوال مدینہ کا ہے۔سوال یروشلم کا نہیں سوال خود مکہ مکرمہ کا ہے۔سوال زید اور بکر کا نہیں۔سوال محمد رسول اللہ علیہ کی عزت کا ہے۔دشمن با وجود اپنی مخالفتوں کے اسلام کے مقابل پر اکٹھا ہو گیا ہے۔کیا مسلمان باوجود ہزاروں اتحاد کی وجوہات کے اس موقع پر اکٹھا نہیں ہوگا۔امریکہ کا روپیہ اور روس کے منصوبے اور ہتھکنڈے، دونوں ہی غریب عربوں کے مقابل پر جمع ہیں۔جن طاقتوں کا مقابلہ جرمنی نہیں کر سکا۔عرب قبائل کیا کر سکتے ہیں۔ہمارے لئے یہ سوچنے کا موقعہ آ گیا ہے کہ کیا ہم کو الگ الگ اور باری باری مرنا چاہئیے یا اکٹھے ہو کر فتح کے لئے کافی جدوجہد صلى الله کرنی چاہئے۔۔۔۔مصر شام اور عراق کا ہوائی بیڑہ سو ہوائی جہازوں سے زیادہ نہیں لیکن یہودی اس سے دس گنا بیڑہ نہایت آسانی سے جمع کر سکتے ہیں۔اور شاید روس تو ان کو اپنا بیڑہ نذر کے طور پر پیش بھی کر دے۔بعض مسلمانوں میں یہ عادت ہے کہ جب ان کا ایک دشمن سے واسطہ پڑے تو اس کے مخالف کو خواہ مخواہ اپنی امیدوں کا مرکز بنا لیتے ہیں۔خواہ عالم اسلام کے متعلق اُس کے ارادے نہایت برے ہی کیوں نہ ہوں۔حضور نے ان الفاظ میں اس غلطی کی طرف توجہ دلائی۔میں نے متواتر اور بار بار مسلمانوں کو توجہ دلائی ہے۔کہ روس مسلمانوں کا شدید دشمن ہے۔لیکن مسلمانوں نے سمجھا نہیں۔جو بھی اُٹھتا ہے نہایت محبت بھری نگاہوں سے روس کی طرف دیکھنے لگ جاتا ہے۔اور روس کو اپنی امیدوں کی آماجگاہ بنا لیتا ہے۔حالانکہ حق یہی ہے کہ سب سے بڑا دشمن مسلمانوں کا روس ہے۔۔۔۔