سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 23 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 23

23 جس کے نتیجے میں ایک امام مسجد ابراہیم صاحب سمیت تقریباً ۲۳ افراد احمدیت میں داخل ہوئے۔مخالفین نے مصر سے جماعت کے خلاف کتب منگوا ئیں اور مبلغ سلسلہ کے خلاف قتل کا فتویٰ بھی جاری کیا گیا۔یہاں پر مولوی محمد دین صاحب کا قیام ڈیڑھ سال تک رہا جس کے بعد حکومت کی مداخلت کی وجہ سے آپ کو مجبوراً یہاں سے رخصت ہونا پڑا۔(۲ تا ۵) (1) The Preaching of Islam, by T۔W۔Arnold, Low Price Publication Delhi 2001, 192-197 (۲) الفضل ۲۱ فروری ۱۹۳۷ء ص ۲ (۳) الفضل ۲ ستمبر ۱۹۳۷ء ص ۸ (۴) ۲۲ جنوری ۱۹۳۸ء ص ۷ اٹلی: (a) The Sunrise 23 December 1939, page 43 کیتھولک عیسائیوں کا مرکز ویٹیکن روم کے اندر واقع ہے اور صدیوں سے یہیں پر ان کے مذہبی پیشوا پوپ کی رہائش ہے۔اس وجہ سے مذہبی دنیا میں اٹلی کی اپنی ایک اہمیت ہے۔۱۹۱۴ء کے آخر میں ایک اطالوی باشندے کو ریو ( Corio) نے برطانیہ میں بیعت کی (۱)۔حضور نے ۱۹۲۴ء میں یورپ کے سفر کے دوران اٹلی کا دورہ بھی فرمایا۔اور وہاں کے وزیر اعظم مسولینی سے ملاقات فرمائی۔اس ملاقات کی غرض یہ تھی کہ انہیں سلسلے کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا جائے تا کہ اٹلی کے لئے مبلغین بھیجنے میں آسانی ہو اور بعد میں کسی قسم کی غلط نہی پیدا نہ ہو۔اس ملاقات میں مسولینی نے خود حضور سے کہا کہ آپ اپنا مبلغ اٹلی بھیج سکتے ہیں (۳۲)۔اس کے نو برس بعد حضور کے ارشاد پر ملک محمد شریف صاحب سپین گئے مگر وہاں پر خانہ جنگی کی وجہ سے آپ کے قیام کی راہ میں دشواریاں پیدا ہوئیں تو حضور کے ارشاد پر آپ جنوری ۱۹۳۷ء میں اٹلی چلے گئے۔وہاں جا کر آپ نے اطالوی زبان سیکھنی شروع کی اور روم میں تبلیغ کا آغاز کیا۔اس کے نتیجے میں سب سے پہلے احمد کار بون (Carbone) صاحب نے احمدیت قبول کی۔اگلے دو تین برس میں مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے تقریباً تمیں افراد جماعت میں شامل ہوئے۔اگست ۱۹۳۹ء میں ملک محمد شریف صاحب کو اٹلی چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔مگر پھر وزیر ہند لارڈ زیٹلینڈ (Zetland) کی کوششوں کی وجہ سے حکم منسوخ