سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 295 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 295

295 مخالفت میں ووٹ دیں۔سیام ایڈ ہاک کمیٹی کا نائب صدر تھا لیکن اسی دوران سیام ( موجودہ تھائی لینڈ ) میں بغاوت ہو گئی اور حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا یا تختہ الٹوا دیا گیا۔اس کے بعد اُن کے نمائندے نے خود ہی ایڈ ہاک کمیٹی کے اجلاسات میں شرکت بند کر دی۔ان کی ہمدردیاں عربوں کے ساتھ تھیں۔حضرت چوہدری صاحب اُن کے پاس گئے اور کہا کہ آپ کے ملک میں ایک حکومت قائم ہے اور اس حکومت نے آپ کی نامزدگی کو منسوخ نہیں کیا۔اس لئے آپ کو اجلاسات میں شرکت سے صرف مفروضوں کی بنا پر نہیں رکھنا چاہئیے۔اس پر وہ ایڈ ہاک کمیٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے اور انہوں نے تقسیم کے خلاف ووٹ دیا۔لیکن جب وہ جنرل اسمبلی میں پہنچے تو اس وقت جنرل اسمبلی کے صدر کو تار موصول ہوئی کہ سیام نے اپنے وفد کی نامزدگی کو منسوخ کر دیا ہے۔یہ بات قابل غور ہے کہ حکومت تبدیل ہونے کے بعد تقریبا سولہ دن تک سیام کی حکومت نے اپنے مندوب کی نامزدگی کو منسوخ نہیں کیا تھا لیکن جہاں سیام کا مندوب تقسیم کی تجویز کے خلاف ووٹ دیتا ہے اور جنرل اسمبلی میں معاملہ پہنچتا ہے ، اسی وقت ایک تار موصول ہوتی ہے کہ ہم اپنے نمائندے کی نامزدگی منسوخ کرتے ہیں، چنانچہ سیام نے جنرل اسمبلی کے اندر رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔اب یہ بات واضح ہوتی جا رہی تھی کہ بڑی طاقتیں ہر قیمت پر تقسیم کی قرار داد منظور کرانا چاہتی ہیں۔چاہے اُس کے لئے کچھ بھی کرنا پڑے۔ان کے دباؤ کے تحت ایک کے بعد دوسرا ملک ان کے کیمپ میں منتقل ہو رہا تھا۔۲۶ نومبر کو صبح گیارہ بجے جنرل سمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔برازیل کے آرانا (Aranha) جنرل اسمبلی کی صدارت کر رہے تھے۔پھر آئس لینڈ کے مندوب نے ایڈہاک کمیٹی کے Reporter کی حیثیت سے ایک مختصر رپورٹ پڑھی۔اس کے بعد مختلف ممالک کے مندوبین نے اس مسئلہ پر تقاریر کرنی تھیں۔سب سے پہلے سویڈن کے نمائندے نے تقریر کی۔سویڈن پہلے ہی تقسیم کے حق میں رائے دے چکا تھا اور اس تقریر میں بھی انہی خیالات کو دہرایا گیا۔اس کے بعد فلپائن کے نمائندے کی باری تھی۔فلپائن کی طرف سے ابھی اظہارِ رائے نہیں ہوا تھا۔اس لئے سب کو دلچسپی تھی کہ فلپائن کا ووٹ کس طرف جائے گا۔فلپائن کی طرف سے جنرل رومیلو (Romulo) نے تقریر شروع کی۔جنرل رو میلو ایک فصیح البیان مقرر تھے۔ان کی تقریر کا پہلا جملہ ہی چونکا دینے