سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 290 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 290

290 پر ظلم کیا جا رہا ہے۔جب تقسیم کے منصوبے کے تفصیلی حصہ پر بحث شروع ہوئی تو ڈنمارک کے مندوب حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ واقعات اور تمہارے دلائل سے یہ صاف ظاہر ہے کہ تقسیم کا منصوبہ بالکل غیر منصفانہ ہے اور اس سے عربوں کے حقوق پر نہایت نہایت مضر اثر پڑے گا۔سکینڈے نیویا کے تمام ممالک کے نمائیندوں کی یہی رائے ہے۔معلوم ہوتا ہے تقسیم کی تجویز ضرور منظور ہو جائے گی کیونکہ امریکہ کی طرف سے ہم پر زور ڈالا جا رہا ہے۔میں تمہیں یہ بتانے آیا ہوں کہ کمیٹی میں عام طور پر یہ احساس ہے کہ ہم امریکہ کے دباؤ کے ماتحت ایک بے انصافی کا فیصلہ کرنے والے ہیں۔اس احساس کا تمہیں فائدہ اُٹھانا چاہیئے۔تم نے اپنی تقریروں میں یہ بھی ثابت کیا ہے کہ اس کی بعض تجاویز ظاہراً طور پر عرب کے حقوق کو غصب کرنے والی ہیں مثلاً یا فہ کا شہر جس کی اکثر آبادی عرب ہے اسے اسرائیل میں شامل کیا گیا ہے۔اسی طرح اور بہت سی ایسی خلاف انصاف تجاویز ہیں۔اس وقت کمیٹی کی کاروائی بڑی جلدی میں ہو رہی ہے۔اگر تم ان تجاویز کے متعلق ترامیم پیش کرتے جاؤ اور مختصر سی تقریر ہر ترمیم کی تائید میں کر دو تو ہم سکنڈے نیویا کے پانچوں ممالک کے نمائندے تمہاری تائید میں رائے دیں گے اور کمیٹی کی موجودہ فضا میں تمہاری تمام ترمیمیں منظور ہو جائیں گی۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اگر تقسیم منظور بھی ہوگئی تو بہت سے امور میں عربوں کی اشک شوئی ہو جائے گی۔چوہدری صاحب کو یہ تجویز پسند آئی اور انہوں نے یہ دیکھنے کے لئے کہ ان کا اندازہ درست بھی ہے کہ نہیں ایک معمولی سی ترمیم پیش کی۔اس پر فوری رائے شماری ہوئی اور تجویز منظور ہو گئی۔اس پر فلسطین کے نمائندے نے حیران ہو کر اس کی وجہ پوچھی۔اس پر چوہدری صاحب نے انہیں ڈینش مندوب کی بات بتائی اور کہا کہ ہم رائے تقسیم کے خلاف دیں گے لیکن اس طرح تقسیم کا منصوبہ کمزور ہو جائے گا اور اگر تجویز منظور بھی ہوگئی تو اتنا زیادہ نقصان نہیں ہوگا۔لیکن اس پر فلسطینیوں کے نمائندے السید جمال الحسینی نے کہا کہ مشکل یہ ہے کہ اگر تقسیم واضح طور پر ہمارے حقوق کو غصب کرنے والی نہ ہوئی تو ہمارے لوگ اس کے خلاف جنگ پر آمادہ نہیں ہوں گے اور ہمیں سخت نقصان پہنچے گا۔اس لئے تم مہربانی کر کے کوئی اور ترمیم نہ پیش کرو۔اس پر حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو خاموش ہونا پڑا۔لیکن یہ فلسطینی راہنماؤں کی سخت غلطی تھی وہ جنگ کے لئے تیار نہیں تھے اور بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ جب جنگ شروع