سلسلہ احمدیہ — Page 282
282 زبر دستی کسی قوم کے ملک میں کسی اور قوم کو آباد کر دے اور پھر اُس قوم کے حقوق بھی پامال نہ ہوں۔فلسطین میں رہنے والوں کے حقوق تو بہر حال پامال ہونے تھے اور ایسا ہی ہوا۔پھر جب ۱۹۲۲ء میں لیگ آف نیشنز نے فلسطین کے علاقہ پر برطانیہ کو مینڈیٹ دیا تو اس کے ساتھ جو ہدایات اس بین الاقوامی تنظیم نے دی تھیں اس کے آرٹیکل ۲ میں لکھا ہو ا تھا کہ برطانیہ فلسطین میں ایسے سیاسی ، اقتصادی اور انتظامی حالات پیدا کرے گا کہ یہاں پر یہودیوں کا وطن قائم ہو جائے۔آرٹیکل ۴ میں لکھا ہوا تھا کہ برطانیہ اس مقصد کے لئے Zionist Organization سے تعاون کرے گا۔اور آرٹیکل ے میں یہ ہدایت کی گئی تھی کہ برطانیہ ایسی قانون سازی کرے گا جس کے نتیجے میں جو یہودی فلسطین میں آکر آباد ہوں انہیں یہاں کی شہریت مل جائے۔ان مینڈیٹ میں ساتھ یہ راگ بھی الا پا گیا تھا کہ یہ سب کچھ ایسے طریق پر کیا جائے کہ مقامی لوگوں کے حقوق متاثر نہ ہوں۔گویا ایک ملک پر قبضہ کر کے وہاں پر آزادی دینے کی بجائے ،لاکھوں غیر ملکیوں کو بھجوا دو اور انہیں وہاں کی شہریت بھی دے دو اور ان کا ملک بھی وہیں بنا دو اور وہاں کے اصل باشندوں کے حقوق متاثر بھی نہ ہوں۔لیکن یہ کہیں نہیں ہدایت دی گئی تھی کہ یہود کو یہاں پر آباد کرنے سے قبل فلسطین کے مقامی لوگوں سے بھی مشورہ کر لیا جائے کہ انہیں یہ منظور ہے بھی کہ نہیں۔دوسری جنگ عظیم سے قبل کے حالات: بہر حال یہودی دنیا بھر سے آکر فلسطین میں آباد ہونے لگے۔ان کی بستیاں بنے لگیں۔ان کے پاس مال و دولت تو فلسطین کے باشندوں کی نسبت بہت زیادہ تھا۔وہ زرخیز زمینوں کے مالک بننے لگے۔ان کا سیاسی رسوخ بڑھتا رہا اور فلسطین کے باشندوں کو یہ صاف نظر آنے لگا کہ اب یہ نووار داس ملک کے مالک بنے کی تیاری کر رہے ہیں۔پورے فلسطین میں یہودیوں کی دہشت گرد تنظیمیں تیزی سے اپنا جال پھیلا رہی تھیں۔فلسطین کے نہتے باشندوں نے اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے کوششیں شروع کیں مگر ان میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ صیہونی سازشوں اور برطانوی حکومت کی جانبداری کا مقابلہ کر سکتے اور نہ ہی عرب اس قابل یا اتنے چوکنا تھے کہ وہ عالمی سطح پر اس سازش کا تدارک کرنے کے قابل ہوتے۔بہت سے عرب لیڈروں کی باگ ڈور بھی مغربی طاقتوں