سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 276 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 276

276 مودودی صاحب سے جب یہ پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا 'یقیناً مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا کہ حکومت کے اس نظام میں مسلمانوں سے ملیچھوں اور شودروں کا سا سلوک کیا جائے۔(۲۷) مطر غازی سراج الدین صاحب سے جب یہ سوال ہوا تو انہوں نے یہ لا یعنی جواب دیا کہ ہم اس ، پہلے یہ کوشش کریں گے کہ ان کی سیاسی حاکمیت ختم کر دی جائے۔یہ بات ظاہر و باہر ہے کہ ان جیسے علماء کو اگر غرض ہے تو یہ کہ ان کو اقتدارمل جائے۔اگر اس کے نتیجے میں کروڑوں مسلمانوں کے سر پر قیامت بھی گذر جائے تو انہیں کوئی پرواہ نہیں۔ان کی ہوس اور خود غرضی قابلِ دید ہے۔اس کے بر عکس حضرت مصلح موعود شروع ہی سے اس بات پر زور دے رہے تھے ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کے حقوق کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے۔آپ نے دسمبر ۱۹۴۷ء میں ایک انٹرویو میں فرمایا د مسلم لیگ کے شیح نظر کی از سرنو توضیح کرنا ہندوستان میں بسنے والے ساڑھے چار کروڑ مسلمانوں کی حفاظت کے لئے نہایت ضروری ہے جنہوں نے پاکستان کے قیام کے لئے غیر معمولی قربانیاں کی ہیں۔۔اگر ہم پاکستان کے غیر مسلموں کو گلے لگالیں۔تو لازمی طور پر ہندوستان کے ہندو مسلمانوں سے اپنی عداوت ترک کر دیں گے۔اور یہ ظاہر ہے کہ ہم ان مسلمانوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔(۲۸) یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں کہ مسلمانوں کا حقیقی در دکس کے دل میں تھا اور کون صرف حصول اقتدار کے لئے کوشاں تھا۔ستمبر ۱۹۴۸ء میں جب قائد اعظم کی علالت دن بدن تشویشناک ہوتی جا رہی تھی۔ایک سوال کے جواب میں مودودی صاحب نے لکھا ایک یہ کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں اس وقت زمام کار ہے وہ اسلام کے معاملہ میں اتنے مخلص اور اپنے ان وعدوں کے بارے میں جو انہوں نے اپنی قوم سے کئے تھے اتنے صادق ہوں کہ اسلامی حکومت قائم کرنے کی جو اہلیت ان کے اندر مفقود ہے اسے خود محسوس کرلیں اور ایمانداری کے ساتھ یہ مان لیں کہ پاکستان حاصل کرنے کے بعد ان کا کام ختم ہو گیا ہے اور یہ کہ اب یہاں اسلامی نظام کی تعمیر کرنا ان لوگوں کا کام ہے جو اس