سلسلہ احمدیہ — Page 275
275 کرنے والے ادارے تشکیل دے گی جو لوگوں کو نیکیوں پر قائم رکھنے کے ذمہ دار ہوں گے۔یہ سہ سلوک تو مسلمانوں سے ہو رہا ہو گا لیکن اس ملک میں جو غیر مسلم ہوں گے ، ان کی حیثیت کیا ہوگی؟ جب اس کے متعلق ۱۹۵۳ء کی تحقیقاتی عدالت میں ابوالحسنات صاحب سے سوال کیا گیا تو مولوی صاحب نے جواب دیا ان کی وضع قانون میں کوئی آواز نہیں ہوگی۔قانون کی تنفیذ میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔اور سرکاری عہدوں پر فائز ہونے کا کوئی حق نہ ہو گا۔(۲۲) مولوی احمد علی صاحب نے اس استفسار کا یہ جواب دیا وضع قانون میں انکی کوئی آواز نہ ہوگی۔نہ تنفیذ قانون کا حق ہوگا۔البتہ حکومت ان کو کسی سرکاری عہدے پر فائز ہونے کی اجازت دے سکتی ہے۔(۲۳) مودودی صاحب سے پوچھا گیا گیا کہ حکومت کے اصولوں کو تسلیم کرنے کے بعد کیا ایک ہندو بھی امور مملکت میں شامل ہوسکتا ہے تو انہوں نے جواب دیا شاید آپ نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ اسلامی حکومت کے اصولوں پر ایمان لے آنے کے بعد ہندو ہندو کب رہے گا ، وہ تو مسلم ہو جائے گا۔(۲۴) مودودی صاحب اور ان جیسے دیگر علماء کی رائے تھی ایک اسلامی حکومت میں ارتداد کی سزا موت ہے اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذہب کی اعلانیہ تبلیغ کی اجازت نہیں ہوگی (۲۵) اور صرف غیر مسلم ہی نہیں اس حکومت میں عورتوں کو بھی کوئی ذمہ داری کا منصب سونپا نہیں جاسکتا (۲۶) اگر ان خلاف اسلام عقائد کو ایک اسلامی ملک میں رائج کر دیا جائے تو لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ اُن ممالک میں جہاں پر مسلمان اقلیت میں ہیں مسلمانوں کے حقوق متاثر ہوں گے۔۱۹۵۳ء کی تحقیقاتی عدالت نے یہ سوال ان علماء کے سامنے رکھا۔ابوالحسنات صاحب صدر جمیعت علماء پاکستان کے سامنے جب یہ سوال رکھا گیا کہ اگر ان کی اس فرضی حکومت کے نتیجے میں ہندوستان کے ہندو ہندوستان میں ہندو دہرم نافذ کریں اور مسلمانوں سے ملیچھوں اور شودروں جیسا سلوک کریں تو کیا اُن کو کوئی اعتراض ہو گا۔ان کا سفا کا نہ جواب تھا جی نہیں۔