سلسلہ احمدیہ — Page 246
246 مل جائے یا دریا سے پانی لے لیا جائے۔۔بہر حال یہ ایک نہایت خوشکن الہام ہے۔(۲۶) اس الہام کے کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامیاب بور کیا گیا اور ربوہ میں ایسا پانی مل گیا جو پینے کے قابل تھا۔اس طرح یہ بابرکت جلسہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ اس خوش خبری پر اختتام پذیر ہوا۔کچے مکانات کی تعمیر : اس جلسے کے بعد جلسے کے لئے بنائی گئی بیرکوں کو تقسیم کر کے چھوٹی چھوٹی رہائش گاہیں بنائی گئیں۔اور کچے مکانات اور دفاتر کی تعمیر شروع کر دی گئی۔(۲۲) ایک ایک کر کے کارکنان ربوہ منتقل ہونا شروع ہوئے۔ان کے اہلِ خانہ بھی نئے مرکز میں منتقل ہونے لگے۔جب نئے آنے والے ربوہ پہنچتے تو انہیں سنگلاخ پہاڑیوں میں گھری ہوئی ایسی وادی نظر آتی جس میں دور دور تک کسی درخت یا سبزے کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ایک چٹیل میدان تھا جس کی سطح پر کلر کی وافر مقدار اس کے نا قابل زراعت ہونے کا یقین دلا رہی ہوتی۔ایک جگہ پر چند کچے مکانوں کی موجودگی سے معلوم ہوتا تھا کہ کچھ لوگ اس بے آب و گیاہ وادی کو بسانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان کچے مکانوں کے اندر اس دور کی بنیادی ضروریات بھی موجود نہیں تھیں۔باہر تو دروازے لگے ہوئے تھے مگر گھروں کے اندر کمروں کے درمیان دروازے تک موجود نہیں تھے۔اکثر گھروں میں بیٹھنے کے لئے ایک کرسی بھی موجود نہیں تھی۔کھانے کا وقت آتا تو زمین پر چٹائی بچھا کر کھانا کھا لیا جاتا۔سقہ دور سے پانی کی مشکیں بھر کر لاتا جسے مٹکوں میں استعمال کے لئے محفوظ کر لیا جاتا۔عام دنوں میں جب لوگ کچے راستوں پر نکلتے تو پاؤں مٹی میں پھنس رہے ہوتے۔اگر بارش ہو جاتی تو کیچڑ جوتوں سے چمٹ کر چلنا دو بھر کر دیتا۔یہاں پر نہ درخت تھے اور نہ ابھی عمارتیں بنی تھیں۔ایسی حالت میں آندھیاں بہت آتی تھیں۔جب آندھی آتی تو سب گھروں کے اندر جانے کی کرتے۔بسا اوقات آندھی اتنی شدید ہوتی کہ صحنوں میں پڑی ہوئی چار پائیوں اور بستروں کو اڑا کر لے جاتی۔بعد میں یہ اشیاء کافی فاصلے پر پڑی ہوئی ملتیں۔شام پڑتے ہی لوگ اپنے گھر کی لالٹینوں کو درست کرنے لگتے تاکہ رات کو روشنی کا انتظام ہو سکے۔لڑکوں کا اسکول چنیوٹ میں تھا۔اور لڑکیوں کے لئے اسکول کی ایک کچی