سلسلہ احمدیہ — Page 245
245 بعد فرمایا ، سجدے میں گر کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا اپنے اندر مخصوص برکات رکھتا ہے۔لہذا اب میں سجدے میں گر کر دعا کروں گا۔احباب بھی میرے ساتھ سجدہ کریں۔چنانچہ خلیفہ وقت کے آستانہ الوہیت پر گرتے ہی تمام جبینیں سجدہ ریز ہو گئیں۔اور فضا میں دردوکرب سے بھری ہوئی صداؤں سے کہرام مچ گیا۔(۲۴) جلسے کے دوسرے روز حضور نے قادیان سے نکلنے کے پس منظر اور قادیان کی واپسی کے متعلق خدائی وعدوں پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ہمارے اصل مرکز قادیان سے دائمی طور پر جدا نہیں رکھ سکتی۔ہم نے خدائی ہاتھ دیکھے ہیں اور آسمانی فوجوں کو اترتے دیکھا ہے۔اگر ساری طاقتیں بھی خدائی تقدیر کا مقابلہ کرنا چاہیں۔تو وہ یقیناً نا کام رہیں گی۔اور وہ وقت ضرور آئے گا جب قادیان پہلے کی طرح جماعت احمدیہ کا مرکز بنے گا۔پھر آپ نے وقف زندگی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ سلسلہ کی اہم ترین ضروریات میں سے ایک وقف زندگی کی تحریک ہے۔کچھ عرصہ سے اس اہم تحریک کی طرف سے احباب جماعت کی توجہ ہٹ گئی ہے۔لوگ زمینیں خرید نے اور تجارتوں کو وسیع کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔حالانکہ بغیر وقف زندگی کے جماعت کے کام نہیں چل سکتے۔اس لئے نو جوانوں کو چاہیے کہ وہ خدمت اسلام کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔(۲۵) اس تاریخی جلسے میں سترہ ہزار افراد شامل ہوئے۔انتظامات ناکافی ثابت ہوئے اور بہت سے مہمانوں کو تاخیر سے کھانا ملنے کی وجہ سے تکلیف اٹھانی پڑی ، رہائش کے مسائل اس کے علاوہ تھے۔مشکلات کا اندازہ اس سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ پہلے ہی دن نو باور چی بیہوش ہو گئے۔لیکن کسی مہمان کے لبوں پر حرف شکایت نہ آیا۔ربوہ کو آباد کرنے کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ یہ پیش آرہی تھی کہ اب تک پینے کے قابل پانی نہیں نکلا تھا۔ربوہ سے لاہور واپسی سے ذرا قبل حضرت مصلح موعوددؓ کو الہام ہوا جاتے ہوئے حضور کی تقدیر نے جناب پاؤں کے نیچے سے میرے پانی بہا دیا حضور نے ۱۲۲ اپریل ۱۹۴۹ نکے خطبہ میں اس الہام کو بیان فرمایا اور فرمایا اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ الہام کس رنگ میں پورا ہو۔ممکن ہے کہ ہمیں نہر سے پانی