سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 244 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 244

244 ہوتے۔وہیں پر آپ مختلف صیغہ جات کے کارکنان سے میٹنگ کر کے کام کا جائزہ لیتے اور ربوہ کی منصوبہ بندی کے متعلق ہدایات دیتے۔(۲۰) پہلے یہ منصوبہ تھا کہ حضور دفاتر کی منتقلی کے کچھ ہی عرصہ بعد ربوہ منتقل ہو جائیں گے مگر پھر مختلف وجوہات کی بنا پر اسے کچھ ماہ کے لئے مؤخر کرنا پڑا۔(۲۱) ربوہ کا پہلا جلسہ سالانہ : جلسہ سالانہ دسمبر میں ہوتا ہے لیکن اس سال فیصلہ کیا گیا کہ اپریل ۴۹ میں جلسہ سالانہ نئے مرکز میں منعقد کیا جائے۔لیکن اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ تھی کہ ربوہ میں بنیادی سہولیات کا مکمل فقدان تھا۔نہ رہائش کے لئے گھر تھے، اور نہ ہی پانی اور بجلی کی سہولیات مہیا تھیں۔یہاں پر ہزاروں مہمانوں کے کھانے کا انتظام کرنا بھی مشکل نظر آ رہا تھا۔لیکن ایک عزم کے ساتھ جلسے کی تیاریاں شروع کی گئیں۔بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ نا مساعد حالات کی وجہ سے یہ جلسہ منعقد نہیں ہو سکے گا۔رہائش کے لئے فیصلہ کیا گیا کہ پچاس عدد کچی بیرکیں تعمیر کی جائیں۔چوہدری عبدالطیف اوورسیئر صاحب اس تعمیر کے نگران تھے۔پہاڑی کے دامن میں گودام بنائے گئے۔اور کچی اینٹیں بنانے کا کام شروع ہوا۔روزانہ پچاس ساٹھ ہزار کچی اینٹ بنتی تھی۔فیملیوں کو ایک ساتھ ٹہرانا تو ممکن نہیں تھا۔لہذا عورتوں اور مردوں کی علیحدہ بیرکیں ریلوے سٹیشن کے قریب تعمیر کی گئیں۔ان بیرکوں کی چھتیں سرکنڈوں کی بنائی گئی تھیں۔خیموں کا انتظام اس کے علاوہ تھا۔حضور کی رہائش کے لئے کچا مکان بھی بنایا گیا۔پانی کے لئے کوششیں بھی ہو رہی تھیں مگر اب تک جو پانی ملا تھا وہ پینے کے قابل نہیں تھا اور اس کا کڑ وہ ذائقہ دیر تک منہ میں رہتا تھا۔مہمانوں کو پانی مہیا کرنے کے لئے گورنمنٹ نے ٹینکر مہیا کئے۔روٹی پکانے کے لئے چالیس تندور لگائے گئے۔(۲۲ ۲۳) ۱۵ اپریل ۱۹۴۹ء کو اس تاریخی جلسے کا افتتاح ہوا۔افتتاحی تقریر کے آغاز میں حضور نے ارشاد فرمایا کہ یہ جلسہ محض تقریروں کا جلسہ نہیں ہے یہ دعاؤں کا جلسہ ہے۔اس جلسہ میں شامل ہونے والے افراد محض ایک جلسہ میں شامل نہیں ہو رہے بلکہ وہ ایک نئی زمین اور نیا آسمان بنانے میں حصہ لے رہے ہیں۔اس کے بعد حضور نے کچھ قرآنی دعائیں پڑھیں اور ارشاد فرمایا کہ تمام شرکاء ان کو دہرائیں۔تقریر کے بعد آپ نے پہلے ہاتھ اٹھا کر ایک لمبی دعا کرائی اور پھر کچھ ہدایات دینے کے