سلسلہ احمدیہ — Page 243
243 پھینکتی چلی جائے وہ فٹ بال کی طرح ہمیں لڑھکاتی چلی جائے ، ہم کوئی نہ کوئی ایسی جگہ ضرور نکال لیں گے جہاں کھڑے ہو کر ہم پھر دوبارہ محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں قائم کر دیں۔‘(۱۸) اس کے بعد حضور نے ایک پر سوز دعا کرائی اور پھر اس اراضی کے چاروں کونوں اور وسط میں پانچ بکروں کی قربانی دی گئی۔اس بابرکت تقریب کے بعد چنیوٹ کے احمدیوں کی طرف سے دعوتِ طعام دی گئی اور شام کے وقت حضور واپس لا ہور تشریف لے گئے۔دفاتر کی منتقلی اب جماعتی دفاتر کو ربوہ منتقل کرنے کا مرحلہ شروع ہوا۔اور سب سے پہلے نظارت تعلیم و تربیت کے فعال دفتر نے یہاں پر کام شروع کیا۔اس سے قبل ہی جامعہ احمدیہ کا آغاز احمد نگر میں ہو چکا تھا اور چنیوٹ میں تعلیم الاسلام ہائی اسکول نہ صرف کام کر رہا تھا بلکہ میٹرک میں پاس ہونے والے طلبہ کے تناسب کے لحاظ سے پورے صوبے میں اول بھی رہا تھا۔ان کے علاوہ بیت المال، بہشتی مقبره ، امور عامه، ضیافت کی نظارتوں اور دارالقضاء کے شعبے کو بھی ستمبر ۱۹۴۸ء میں ہی ربوہ منتقل کر دیا گیا۔یہ تبدیلی اس طرح کی نہیں تھی جیسے ایک عمارت یا ایک شہر سے کوئی دفتر دوسری عمارت یا دوسرے شہر میں منتقل ہو جاتا ہے۔ابتداء میں دفاتر کے لئے کچی کو ٹھریاں تک میسر نہیں تھیں، خیموں اور چھولداریوں میں دفاتر شروع کئے گئے۔ان میں بھی جگہ کی تنگی کا سامنا تھا۔تقریباً بارہ ماہ کے عرصے میں تیسری جگہ پر دفاتر کومنتقل کیا جارہا تھا۔مالی تنگی کی وجہ سے ہر شعبے میں عملے کو کم کرنا پڑا تھا۔ریکارڈ رکھنے کی جگہ بھی مشکل سے ملتی تھی۔اس بے آب و گیاہ وادی میں کارکنان کو رہائش کی گوناں گوں تکالیف ان کے علاوہ تھیں۔چھ ماہ کے بعد دفاتر کو کچی بیر کیں مل سکیں۔شروع شروع میں ان میں بھی جگہ کی قلت تھی۔بجلی جیسی بنیادی سہولت کا بھی نام ونشان نہیں تھا۔ان تمام تکالیف کے باوجود کارکنان نے لگن اور استقلال سے کام کو جاری رکھا۔(۱۹) حضرت خلیفہ المسیح الثانی بھی کام کا جائزہ لینے اور کارکنان کی حوصلہ افزائی کے لئے کچھ عرصہ بعد ربوہ تشریف لاتے۔اس وقت عمارات تو بنی نہیں تھیں۔ایک خیمے میں دری بچھا دی جاتی، جس پر آپ رونق افروز