سلسلہ احمدیہ — Page 212
212 کہ تلاشی نہیں ہوگی۔تکرار بڑھی تو انہوں نے کہا کہ مجھے گولی مار دو مگر تلاشی نہیں ہو گی۔بعد میں یہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اعتراف کیا کہ میں نے قادیان میں جو نو جوان دیکھے ہیں وہ ان یہودی نوجوانوں سے بھی زیادہ بہادر ہیں جنہیں فوجی طور پر ٹرین کیا گیا ہے اور جو ہر قسم کے ہتھیاروں سے مسلح ہیں۔آپ کے نوجوانوں نے اگر اپنی جانیں دے دیں تو بے شک ان کی موت شاندار موت ہوگی۔لیکن میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ انہیں مرنے نہ دیں کیونکہ اگر وہ زندہ رہے تو ان کی زندگی ان کی موت سے بھی زیادہ شاندار ہوگی۔(۲۶ و ۳۰) اب قادیان کے حالات غیر از جماعت حلقوں میں بھی ایک اہمیت اختیار کر چکے تھے۔چنانچہ پاکستان ٹائمنز نے ۴ اکتوبر ۱۹۴۷ کو قادیان کے عنوان سے اداریہ تحریر کیا۔اس وقت فیض احمد فیض پاکستان ٹائمنر کے ایڈیٹر تھے۔ابھی اس بڑے حملے کی اطلاع پاکستان نہیں ملی تھی۔اس اداریے میں تحریر کیا گیا کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر لوگ اپنے گھروں میں رہ کر بہادری سے خطرات کا مقابلہ کرتے تو اتنے وسیع پیمانے پر تباہیوں سے بچ جاتے اور اتنے زیادہ لوگوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت نہ کرنی پڑتی۔قادیان کے باشندوں نے اس سلسلے میں ایک آزمائشی مثال قائم کی ہے اور یہ لوگ وہیں پر ٹھہرے رہے ہیں۔اور یہ بات مشرقی پنجاب کی حکومت کے لئے ایک امتحان کی حیثیت رکھتی ہے اور وہ اس امتحان میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔اگر احمدی اب تک بچے ہوئے ہیں تو اس کی وجہ ان کی اعلیٰ درجے کی تنظیم ہے۔وہ پچاس ہزار مسلمانوں کو وہاں پر پناہ دے رہے ہیں اور انہیں خوراک بھی مہیا کر رہے ہیں۔اگر چہ احمدی ہمیشہ ملکی حکومت کے وفادار رہے ہیں مگر اب حکومتی ادارے ہی ان پر ظلم کر رہے ہیں۔ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہاں سے عورتوں اور بچوں کو نکالنے کا انتظام کرے۔قادیان کے مرد وہیں پر ٹھہر نا چاہتے ہیں۔(۳۱) جب قادیان پر ۳ اکتوبر کا بڑا حملہ ہوا تو اس وقت قادیان کے احمدیوں کا لاہور سے رابطہ بالکل منقطع ہو چکا تھا۔دس روز سے نہ کوئی کنوائے آیا تھا اور نہ ہی فون پر حضور گو اس کی اطلاع کی جا سکی تھی۔قادیان میں موجود آبادی صرف حلقہ مسجد مبارک ، بورڈ نگ تحریک جدید اور دارالانوار کے کچھ گھروں تک مقید ہو کر رہ گئی تھی۔اس ابتلاء کے وقت ۶ اکتوبر کو قادیان والوں نے ریڈیو پاکستان پر حضرت مصلح موعود کا اہلِ قادیان کے نام پیغام سنا۔اپنے امام کا پیغام سن کر سب کے دلوں کو