سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 211 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 211

211 تھے۔بارشیں بہت ہوئی تھیں۔زمین گیلی تھی اور جگہ جگہ نشیبی زمین میں پانی جمع تھا۔یہ جگہ گذشتہ تین ماہ سے پناہ گزینوں کے کیمپ کے طور پر استعمال ہو رہی تھی۔اور یہاں پر حوائج ضروریہ کے لئے کوئی انتظام نہ تھا۔کھلے آسمان کے نیچے پڑے ہوئے لوگ رات کے اندھیرے میں جہاں موقع ملتا حوائج ضروریہ سے فراغت پالیتے۔زمین گندگی سے اتنی اٹی ہوئی تھی کہ لیٹ کر سونا بھی محال تھا۔اب جبکہ ہزاروں احمدی بھی یہاں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تو کھانے کے لئے فقط ابلی ہوئی گندم ہی مل سکتی تھی۔پانی کے لئے ایک کنواں تھا اور ایک نلکہ۔باہر جا کر پانی تک لانا ناممکن نظر آرہا تھا۔کنویں پر پانی پینے والوں کا ہجوم ہوا تو اسی تگا پو میں ڈول کنویں کے اندر گر گیا۔بازار بند اور کرفیو نافذ۔اب نیا ڈول اور رسی کہاں سے آتی۔اب ان ہزاروں مظلوموں کو پانی مہیا کرنے کے لئے اب ایک نلکہ ہی رہ گیا تھا۔اسی بے بسی کے عالم میں ۱۵ اور ۱۶ اکتوبر کی درمیانی رات میں بارش ہو گئی۔درختوں پر جو پانی گرتا۔وہ ایک پتے سے دوسرے پتے پر منتقل ہوتا ہوا ایک دھار کی صورت میں گرتا۔کئی لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے اوک بنا کر سیر ہو کر پانی پیا۔یہ لوگ اسی حالت میں وہاں ٹھہرے رہے۔جب عورتیں اور بچے اور بہت سے مرد بھی مختلف کنوائے کی صورت میں پاکستان روانہ ہو گئے اور صرف تین سو کے قریب افراد بورڈنگ میں رہ گئے تو یہ لوگ یہاں سے حلقہ مسجد مبارک منتقل ہوئے۔(۲۹) حکومت کو شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے: یوں تو پورے پنجاب میں قیامت برپاتھی۔مشرقی پنجاب سے تمام مسلمان افراتفری کی حالت میں نکلنے پر مجبور تھے، اس دور ابتلاء میں ان کی جانیں ، اموال اور عورتوں کی عزتیں محفوظ نہیں تھیں۔ہر طرف بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔صرف قادیان کی چھوٹی سی بستی ایسی جگہ تھی جہاں پر جرات مندانہ مزاحمت کی جارہی تھی اور عورتوں اور بچوں کا منظم انخلاء کامیابی سے جاری تھا۔اس وقت غیر بھی اس بہادری کو سرا ہے بغیر نہ رہ سکے۔حکومت کی طرف سے کنوائے کی حفاظت کے لئے کچھ فوج کے افسران بھی مقرر کئے جاتے تھے۔ایک مرتبہ ان کے ساتھ ایک یوروپی میجر بھی آئے جو مذہبا یہودی تھے۔وہ قادیان کے نوجوانوں کا جذ بہر دیکھ کر بہت متاثر ہوئے۔جب ہندوستانی حکام نے قافلے کی تلاشی لینے کا ارادہ ظاہر کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر تلاشی سے انکار کر دیا کہ دونوں حکومتوں کا معاہدہ ہے