سلسلہ احمدیہ — Page 210
210 مقامات مقدسہ تک پہنچ چکی تھی۔ان وحشیوں سے عورتوں کو بھی بچانا ضروری تھا۔چنانچہ اب یہ فیصلہ کیا گیا کہ مینارہ اسیح سے بگل بجا دیا جائے۔یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ اب ہر حملہ آور سے مقابلے کی اجازت ہے۔چونکہ حلقہ مسجد مبارک میں دارالرحمت کے حالات کا صحیح اندازہ نہیں تھا، اس لئے یہ اشارہ بھی تاخیر سے دیا جا رہا تھا۔جو نہی مینارہ سے بگل کی آواز بلند ہوئی احمدیوں نے فائر کھول دیا اور با قاعدہ مقابلہ شروع ہو گیا۔ابھی بگل کی آواز کو زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ حملہ آور سر پر پاؤں رکھ کے بھاگے اور دیکھتے دیکھتے غائب ہو گئے۔ظالموں کی حرص بہت زیادہ مگر ہمت بہت تھوڑی ہوتی ہے۔۳ اکتوبر کے المناک دن تقریباً دو سو احمدیوں نے جام شہادت نوش کیا۔ظالموں نے بہت سی لاشیں بھی احمدیوں کو نہیں دیں۔حضور نے 10 اکتوبر کو ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور شہداء کے متعلق فرمایا اب وہ ہماری یادگار اور ہماری تاریخ کی امانت ہیں اور ہماری جماعت ان کا نام ہمیشہ کے لئے زندہ رکھے گی۔اگر وہ بے نام ہیں تب بھی وہ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں زندہ رہیں گے (۲۴)۔اکثر محلوں میں رہنے والے بورڈنگ اور دارا مسیح میں محصور ہو گئے۔لیکن قادیان کے مقامات مقدسہ کو تباہ کرنے اور تمام احمدیوں کو یہاں سے نکالنے کی ناپاک کوشش ناکام ہو گئی۔باوجود اس کے کہ فوج اور پولیس نے آٹھ نو ہزار حملہ آوروں کی معیت میں حملہ کیا تھا۔اور اپنی طرف سے ان ارادوں کو کامیاب بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔(۲۵ تا ۲۷) اس خون آلود پس منظر میں یہ تشویشناک خبریں موصول ہونے لگیں کہ ہندوستان کی حکومت اس تجویز پر غور کر رہی ہے کہ قادیان کو چھاؤنی بنا دیا جائے اور ضلع کے دوسرے دفاتر بھی گورداسپور کی بجائے قادیان منتقل کر دیئے جائیں۔روزنامہ احسان نے اس خبر کو شائع بھی کیا۔اب حکومت کے پاس تو قادیان میں ان مقاصد کے لیئے عمارات موجود نہیں تھیں۔اس سے صرف یہ مطلب نکلتا تھا کہ جماعتی عمارات اور احمدیوں کے نجی مکانات پر زبردستی قبضہ کر کے ان میں چھاؤنی اور دوسرے دفاتر قائم کیئے جائیں گے۔(۲۸) بڑے حملے کے وقت قادیان کے محلے خالی کر کے ، عورتیں، بچے اور مرد بورڈنگ میں جمع ہو گئے تھے۔مگر یہ بورڈنگ تو صرف چند سولڑکوں کی رہائش کے لئے بنائی گئی تھی۔اس میں ہزاروں کی تعداد میں پناہ گزینوں کے لئے جگہ کہاں تھی۔عمارت کے اندر عورتوں اور بچوں کے ہجوم کی وجہ سے تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔مرد باہر شیڈ کے یا درختوں کے نیچے یا پھر کھلے آسمان کے تلے رہنے پر مجبور