سلسلہ احمدیہ — Page 209
209 خوفناک دھما کہ ہوا۔معلوم ہوا کہ مسجد اقصیٰ میں بم پھینکا گیا ہے۔لیکن کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوا۔ساری رات فضا گولیوں کی آوازوں اور زخمیوں کی آہ و بکا سے گونجتی رہی۔صبح کو مکانوں کی چھتوں سے دیکھا گیا کہ محلہ دارالرحمت کے قریب کھیتوں میں سکھوں کا جتھہ جمع ہو رہا ہے۔جلد ہی ان کی تعداد سینکڑوں سے بڑھ کر ہزاروں تک پہنچ گئی۔پولیس اور فوج بھی وہاں موجود تھی مگر ان کو روکنے کی بجائے انہیں کچھ ہدایات دیتی نظر آ رہی تھی۔جلد ہی ان بلوائیوں نے محلہ دارالرحمت پر حملہ کیا مگر جب حفاظت پر مقرر خدام سامنے آئے تو یہ ہجوم بھاگنے پر مجبور ہو گیا۔یہ پسپائی دیکھ کر ایک مرتبہ پھر فوج اور پولیس کو بلوائیوں کی مدد کو آنا پڑا۔پولیس اور ملٹری دوسری طرف سے محلہ میں داخل ہوئے اور گولیاں چلانی شروع کر دیں اور اس کے ساتھ سکھ جتھوں نے قطاریں بنا کر ایک بار پھر محلہ کی طرف بڑھنا شروع کیا۔فوجی اور سپاہی ہر دروازے پر جا کر کہتے کہ یہاں سے نکل جاؤ ورنہ گولی چلا دیں گے اور یہ حملہ آور تمہیں مار دیں گے۔ایسی صورت میں سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی تھی کہ عورتوں کو یہاں سے نکال کر حفاظت کے مقام پر پہنچایا جائے۔احمدی عورتوں کو بورڈ نگ تحریک جدید میں منتقل کرنے کا کام شروع ہوامگر سامنے تقریباً دو ہزار سکھ اور پولیس والے حملہ کر رہے تھے۔چنانچہ احمدی نوجوانوں نے مورچہ بنا کر بہادری سے حملہ آوروں کا مقابل کرنا شروع کیا۔اور یہ نوجوان چار بجے تک اپنے مورچے سے فائرنگ کر کے حملہ آوروں کو روکتے رہے۔میں چالیس حملہ اور مارے گئے۔مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام عورتوں کو بورڈنگ میں پہنچا دیا۔آخر کار فوج اور پولیس نے محلہ دارالرحمت کو بھی خالی کرالیا۔ایک طرف تو محلہ دارالرحمت میں یہ قیامت بپا کی جارہی تھی اور دوسری طرف مسجد اقصیٰ کے مغرب میں پولیس کے سپاہی اور سکھ حملہ آور ، احمدیوں کے محلہ میں چھتیں پھلانگ کر داخل ہو گئے اور احمدیوں کا قتلِ عام شروع کر دیا۔اسی وقت مسجد مبارک میں بندوق بردار لوگوں کی ڈیوٹی لگا دی گئی اور حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب جائزہ لینے کے لئے مسجد اقصیٰ کی طرف روانہ ہوئے۔سب سے پہلے تو عورتوں کو ایک کھڑکی کے ذریعہ مسجد اقصیٰ میں لایا گیا۔با وجود تمام مظالم کے اب تک احمدی اس بات سے احتراز کرتے رہے تھے کہ فوج یا پولیس سے مقابلہ کریں۔گو کہ ان کی چیرہ دستیوں سے اکثریت کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے تھے۔لیکن اب فوج اور پولیس کے آدمی قانون نافذ کرنے کی بجائے خود قتل عام کر رہے تھے۔اور اب یہ جنگ