سلسلہ احمدیہ — Page 190
190 پنجاب میں داخل ہو رہے تھے اور مسلمان لاکھوں کی تعداد میں مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب منتقل ہورہے تھے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ستمبر کے آخر تک سترہ لاکھ پچاس ہزار افراد پنجاب کی سرحد پر نقل مکانی کر چکے تھے (۵)۔مگر اب یہ صورت حال واضح نظر آ رہی تھی کہ اکثر اضلاع میں پاکستان چھوڑنے والوں کی نسبت پاکستان میں آنے والوں کی تعداد کافی زیادہ تھی۔اس وجہ سے ان مہاجرین کے مسائل اور بھی بڑھ گئے تھے۔فوری طور پر انہیں رہائش اور خوراک کے مسائل در پیش تھے، انہیں کپڑوں کی ضرورت تھی اور آنے والے موسم سرما کے لئے مناسب بستروں کی ضرورت تھی۔دوسرے مسلمانوں کی طرح احمدیوں کی ایک بڑی تعداد بھی مجبوراً ہجرت کر کے بے سروسامانی کے عالم میں مغربی پنجاب پہنچ رہی تھی۔ان میں سے اکثر کے پاس نہ تو رہنے کی جگہ تھی اور نہ کھانے کو روٹی تھی۔مہاجرین کی ایک بڑی تعداد محض تن پر موجود کپڑے اور اپنی جان ہی بچا کر پاکستان آنے میں کامیاب ہوئے تھے۔چنانچہ حضور کے ارشاد کے تحت جودھامل بلڈنگ سے متصل میدان میں سائبان لگا دیئے گئے اور وہاں پر آنے والے مہاجرین کے لئے خوراک اور عارضی رہائش کا انتظام کیا گیا۔خاندانِ حضرت مسیح موعود کے افراد کے کھانے کا انتظام حضرت مصلح موعودؓ کی طرف سے ہو رہا تھا۔حضور اور آپ کے اہل خانہ بھی ایک وقت کے کھانے میں صرف ایک روٹی کھاتے تا کہ آنے والے مہاجرین کی زیادہ سے زیادہ خدمت کی جا سکے۔جن کے رشتہ دار مغربی پنجاب میں موجود تھے، انہیں ان کے رشتہ داروں کے پاس پہنچایا گیا۔جب موسم سرما شروع ہوا تو مہاجرین کے پاس نہ تو مناسب بستر موجود تھے اور نہ ہی مالی وسائل تھے کہ وہ خود لحافوں کا انتظام کر سکیں۔حضور نے جماعت کو بالخصوص سیالکوٹ کی جماعت کو مہاجرین کے لئے گرم کپڑے اور بستر مہیا کرنے کی تحریک فرمائی۔اور فرمایا کہ ہر احمدی گھرانا اپنی بنیادی ضرورت سے زائد کپڑے، بستر خصوصاً کمبل بلحاف اور تو شک وغیرہ اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی خدمت میں پیش کرے۔اور ارشاد فرمایا کہ کسیر، گنوں کی کھوری اور دھان کے چھلکے جمع کر کے بھجوائے جائیں تا کہ ان کو بطور بستر استعمال کیا جا سکے۔ان مہاجرین کے ذرائع معاش ختم ہو چکے تھے۔فوری ضروریات پوری کرنے کے علاوہ اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ مہاجرین کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے۔اس غرض کے لئے فوراً