سلسلہ احمدیہ — Page 185
185 قیام لاہور، آزمائشوں کا طوفان الہبی جماعتوں پر ابتلاء آتے ہیں۔اس لئے نہیں کہ وہ نابود ہو جائیں بلکہ اس لئے کہ وہ امتحانات سے سرخرو ہو کر نکلیں اور ان کا رب انہیں مزید انعامات سے نوازے۔انبیاء، خلفاء اور اولیاء پر بھی آزمائشیں آتی ہیں اور ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں جب تمام دنیاوی امیدیں منقطع ہو جاتی ہیں۔لیکن وہ سب سے بڑھ کر صبر اور حوصلہ دکھاتے ہیں اور پھر دنیا دیکھتی ہے کہ ان کا خدا انہیں اپنی پناہ میں لے کر ہر خطرے سے بچاتا ہے اور پہلے سے بڑھ کر ترقیات اور انعامات سے نوازتا ہے۔تا کہ سب جان لیں کہ ان کو بچانے والا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور باقی دنیا ان کے نزدیک محض ایک مرے ہوئے کیڑے کی حیثیت رکھتی ہے۔ان حالات میں جماعت احمدیہ کو بیک وقت بہت سے چیلنجوں کا سامنا تھا۔قادیان کی پیاری بستی جس کی خاک نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدم چومے تھے ہر طرف سے خوفناک خطرات میں گھری ہوئی تھی۔دشمن قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی کوشش کر رہا تھا۔حکومتِ۔وقت بلوائیوں کی پشت پناہی کر رہی تھی۔چودہ پندرہ ہزار احمدی تو صرف قادیان میں محصور تھے۔ان میں کمزور بچے عورتیں اور بوڑھے بھی شامل تھے۔عورتوں اور بچوں کو ان حالات میں وہاں سے نکالنا اپنی ذات میں ایک بہت بڑا مسئلہ تھا۔پورے مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی تھی ، ان کے اموال لوٹے جا رہے تھے، عورتوں کو اغوا کیا جا رہا تھا۔اور جو احمدی پناہ گزیں مشرقی پنجاب سے پاکستان پہنچ رہے تھے، ان میں سے اکثریت کے پاس نہ کھانے کو روٹی تھی ، نہ کپڑے تھے اور نہ سروں کے اوپر چھت رہی تھی۔ان کو بنیادی ضروریات زندگی مہیا کرنا اور ان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ایک طویل جدو جہد کا تقاضا کرتا تھا۔قادیان تو باقی دنیا سے منقطع تھا اور حضور لاہور تشریف لا چکے تھے۔ایسی صورت میں حالات کا تقاضہ تھا کہ پاکستان میں کم از کم وقتی طور پر جماعت کا مرکزی نظام قائم کیا جائے۔سب سے پہلے ہم لاہور اور پاکستان میں نظامِ جماعت کے قیام کے عمل کا جائزہ لیتے ہیں اور اس کے بعد یہ دیکھیں گے کہ اگلے چند ماہ میں تمام خطرات کے باوجود