سلسلہ احمدیہ — Page 139
139 چنانچہ حضور کی ہدایت کے مطابق احمدیوں نے مرکزی اسمبلی کی سیٹوں پر مسلم لگے امیدواروں کی حمایت کی اور پنجاب کے علاوہ باقی صوبائی اسمبلیوں کے لئے بھی مسلم لیگ کے امیدواروں کی حمایت کا فیصلہ کیا۔پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے متعلق حضور کی ہدایت تھی کہ جو احمدی الیکشن میں کھڑے ہونا چاہیں وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ کے لئے کوشش کریں۔مگر اگر وہ سمجھیں کہ اسے اس کا جائز حق دینے سے انکار کیا جا رہا ہے تو وہ یہ اعلان کر کے ممبری کے لئے کھڑا ہوسکتا ہے کہ میں مسلم لیگ کی پالیسی سے متفق ہوں مگر چونکہ میرا حق نہیں دیا جارہا اس لئے میں مجبوراً انڈیپنڈنٹ کھڑا ہورہا ہوں۔چنانچہ حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب قادیان والے حلقہ سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کھڑے ہوئے۔پنجاب کی مسلم لیگ کے ساتھ رابطہ کر کے یہ پیشکش کی گئی کہ اگر وہ یہ قطعی فیصلہ کر دیں کہ مسلم لیگ میں احمدی شامل ہو سکتے ہیں اور ان کے حقوق دوسروں کے برابر ہوں گے تو پنجاب اسمبلی میں ان کے مقابل پر سب احمدی امیدوار بیٹھ جائیں گے مگر انہوں نے احرار وغیرہ کے ڈر سے اس کی جراءت نہ کی۔پنجاب کے بعض لوکل حلقوں میں مسلم لیگ جماعت کی مخالفت کر رہی تھی اور بعض حلقوں میں ان کے ساتھ تعاون کر رہی تھی۔پنجاب اسمبلی کی ایک نشست پر ایک احمدی مسلم لیگ کے ٹکٹ پر کھڑے بھی ہو رہے تھے۔اس وجہ سے پنجاب اسمبلی کے کچھ حلقوں پر جماعت مسلم لیگ کے امیدواروں سے تعاون کر رہی تھی اور بعض حلقوں میں یونینسٹ پارٹی یا آزاد امیدواروں سے تعاون کیا جارہا تھا۔آل انڈیا مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کا رویہ اس کے برعکس تھا۔قائد اعظم محمد علی جناح نے قادیان اپنے نمایندے سردار شوکت حیات صاحب کو خود بھجوایا۔اس کی روئیدادسردار صاحب نے اپنی کتاب میں یوں بیان کی ہے۔ایک دن مجھے قائدِ اعظم کی طرف سے پیغام ملا شوکت مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم بٹالہ جا رہے ہو جو قادیان سے پانچ میل کے فاصلے پر ہے تم وہاں جاؤ اور حضرت صاحب کو میری درخواست پہنچاؤ کہ وہ پاکستان کے حصول کے لئے اپنی نیک دعاؤں اور حمایت سے نوازیں۔جلسے کے اختتام کے بعد میں نصف شب تقریباً بارہ بجے قادیان پہنچا تو حضرت صاحب آرام فرما رہے تھے۔میں نے ان تک پیغام پہنچایا کہ میں قائد اعظم کا پیغام لے کر حاضر ہو ا ہوں وہ اسی وقت نیچے تشریف لائے اور استفسار کیا کہ قائد اعظم کے کیا احکامات