سلسلہ احمدیہ — Page 134
134 اپنے بنیادی فرائض بھی ادا نہیں کر پا رہی تھی اور ان نازک حالات میں اس پر سکوت مرگ کی کیفیت طاری تھی۔چنانچہ اس صورتِ حال کا ماتم کرتے ہوئے اخبار زمیندار نے ،جس کے ایڈیٹر ظفر علی خان صاحب تھے، جو پنجاب مسلم لیگ کے لیڈر ہونے کے علاوہ ، جماعت احمدیہ کی مخالفت میں بھی پیش پیش تھے، اپنے اداریے میں لکھا دلیکن افسوس حالات کی یہ نزاکت اور ماحول کی یہ فتنہ سامانی بھی مسلمانوں کو خود غرضیوں سے باز نہ رکھ سکی۔آج ہمیں سب سے زیادہ شکوہ پنجاب مسلم لیگ سے ہے۔۔۔لیکن جہاں اغیار اس قد رسرگرم عمل ہیں وہاں پنجاب پراونشل مسلم لیگ پر سکوتِ مرگ طاری ہے۔یہ تو ہمیں معلوم ہے کہ پنجاب مسلم لیگ آج جن ہاتھوں میں ہے اور جن خاص مقاصد کے پیش نظر انہوں نے اس ادارہ پر قبضہ کیا ہے ان کی مصلحتیں اس ادارہ سے ذاتی اغراض حاصل کرنا تو چاہتی ہیں لیکن اسے برکار نہیں دیکھ سکتیں۔لیکن کیا ان کی اغراض کے مقابلے میں اسلامی مفاد کوئی وقعت نہیں رکھتے۔کیا وہ وقتی طور پر بھی اس ادارہ کی زندگی گوارا نہیں کر سکتے۔اسی لاہور میں اینٹی پاکستان کا نفرنس منعقد کی گئی لیکن پنجاب مسلم لیگ ٹیپ روڈ اور ایمپرس روڈ سے یہ تماشہ دیکھتی رہی۔اسے یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ بھی پاکستان کا نفرنس منعقد کر کے بڑھتے ہوئے فتنہ کا سدِ باب کرتی۔آج مردم شماری کا مسئلہ تمام قوموں کی خصوصی تو جہات کا مرکز بنا ہوا ہے۔اور ان کی سرگرمیوں کا مرکز بھی پنجاب ہی ہے۔کہیں مردم شماری کا ہفتہ منایا جارہا ہے۔کہیں کا نفرنسیں منعقد کر کے مسلمانوں کی مردم شماری کے راستے میں کانٹے بکھیرنے کا سامان کیا جا رہا ہے۔لیکن پنجاب مسلم لیگ کے بڑے آدمیوں کو اس مردم شماری کے نتائج کی کوئی پروا ہی نہیں ہے۔۔۔۔پنجاب مسلم لیگ جو زندہ دلوں کے صوبہ کی جماعت ہے جس مردہ دلی کا ثبوت دے رہی ہے اس سے مسلم لیگ کے ہر بہی خواہ کی گردن شرم سے جھک جاتی ہے۔(۱۹) بعد میں بعض مولویوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ۱۹۴۴ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں کوشش کی تھی کہ یہ قانون بن جائے کہ کوئی احمدی مسلم لیگ کا ممبر نہیں بن سکتا۔کافی حمایت بھی حاصل کر لی گئی تھی لیکن خود قائد اعظم نے مداخلت کر کے یہ قرارداد واپس لینے پر آمادہ کر لیا۔(۲۰)