سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 133 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 133

133 رہی تھی کہ ان کی پارٹی کا مفاد اسی میں ہے کہ وہ واضح طور پر اپنے قواعد اساسی میں یہ قاعدہ شامل کریں کہ ہر وہ جماعت جو اپنے آپ کو مسلمان کہے ،مسلم لیگ کی اغراض کے لیئے مسلمان تصور ہوگی اور جماعت کے مخالفین اس کے برعکس کوششیں کر رہے تھے۔۱۹۳۸ء کی مجلس مشاورت میں یہ معاملہ دوبارہ پیش ہوا۔حضور نے ارشاد فرمایا کہ چونکہ مسلم لیگ اور کانگرس کی طرف سے کو ئی قطعی جواب نہیں آیا۔اس صورت میں ہمیں جلدی کی کوئی ضرورت نہیں۔اس لئے میرے نزدیک اس معاملہ کے متعلق یہی بہتر ہے کہ اسے ملتوی کر دیا جائے۔دورانِ سال میں محکمہ خط و کتابت کرتا رہے۔اور اگر ضرورت محسوس ہو۔تو اس کے لئے خاص میٹنگ کرلی جائے۔اگست ۱۹۳۹ء میں کانگرس کی طرف سے واضح جواب موصول ہو ا۔کانگرس تبلیغ اور تبدیلی مذہب کے حوالے سے اپنے قواعد اساسی میں تبدیلی کرنے پر تیار نہیں تھی۔قواعد اساسی کی جو کاپی جماعت کو بھجوائی گئی وہ اس بارے میں مہم تھی۔اس جواب کے پیش نظر کانگرس کے ساتھ خط و کتابت بند کرنی پڑی۔مسلم لیگ کے ساتھ خط و کتابت بھی مکمل طور پر نتیجہ خیز نہیں رہی۔ان کی طرف سے یہ عذر پیش کیا گیا کہ عملاً ہر فرقہ کے مسلمان آل انڈیا مسلم لیگ کے ممبر ہیں اس لئے اگر قواعد اساسی میں یہ قاعدہ داخل کیا گیا کہ جو اپنے آپ کو مسلمان کہے وہ مسلم لیگ کی اغراض کے لئے مسلمان سمجھا جائے گا تو اس سے بہت سے جھگڑوں کا دروازہ کھل جائے گا۔لیکن حقائق سے آنکھیں بند نہیں کی جا سکتی تھیں۔کچھ عرصہ قبل ہی پنجاب پارلیمینٹری بورڈ میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ احمدی مسلمان ہیں کہ نہیں اور اس سوال پر احمدی ممبران کو خارج کر دیا گیا تھا۔گو وہ بورڈ خود کالعدم ہو گیا اور آل انڈیا مسلم لیگ نے اس کی تصدیق نہیں کی لیکن اس کی تردید بھی نہیں کی۔مگر تکفیر کا یہ شوق پنجاب مسلم لیگ تک ہی محدود تھا۔مرکز اور باقی صوبوں کی مسلم لیگ کا رویہ اس کے برعکس تھا۔اس صورتِ حال میں ۱۹۴۰ء کی مجلس مشاورت میں یہ سفارش کی گئی تھی کہ مسلم لیگ سے خط و کتابت جاری رکھی جائے۔(۱۵۔۱۸) تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ جب ایک طبقہ جماعت احمدیہ کی ناجائز مخالفت پر کمر بستہ ہوتا ہے تو پھر یہ طبقہ محض منفی سرگرمیوں میں ہی ترقی کرتا ہے۔رفتہ رفتہ اس طبقہ میں مثبت رحجانات کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔یہی حال اُس وقت پنجاب مسلم لیگ کے اس گروہ کا تھا۔ایک طرف تو یہ گروہ احمدیوں کے خلاف کفر کے فتوے دینے میں پیش پیش تھا اور دوسری طرف پنجاب کی مسلم لیگ