سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 131 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 131

131 ہونے والی بحث اس سوال کے گرد گھوم رہی تھی کہ مسلمانوں کی نمائندگی کا حق کس جماعت کو حاصل ہے۔مسلم لیگ کا دعویٰ تھا کہ وہ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے اور کانگرس اس بات کو تسلیم کرنے کے لیئے تیار نہیں تھی۔چنانچہ اس انتخاب میں زیادہ دلچسپی اس بات میں لی جارہی تھی کہ مسلمانوں کی سیٹوں پر کون سی پارٹی کامیابی حاصل کرتی ہے۔ہر پارٹی کی کوشش تھی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس کا ساتھ دیں اور یہ کوشش کئی سالوں سے چل رہی تھی۔ہندوستان کے باقی باشندوں کی طرح احمدیوں سے بھی رابطہ کیا جارہا تھا۔اور د وسرے رائے دہندگان کی طرح انہیں بھی اس بارے میں ایک فیصلہ کرنا تھا۔ایک طرف کانگرس مسلمانوں کو اپنے اندر شامل ہونے کی دعوت دے رہی تھی اور دوسری طرف مسلم لیگ کی کوشش تھی کہ مسلمانوں کو مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر جمع کیا جائے۔اکتوبر ۱۹۳۷ء میں اس مسئلے پر جماعت احمدیہ کی شوریٰ کا خاص اجلاس بلایا گیا۔اس میں فیصلہ ہوا کہ ناظر امورِ خارجہ دونوں جماعتوں سے خط و کتابت کر کے اگلی مجلس شوری میں نتائج کو پیش کریں۔اس ضمن میں جماعت کے سامنے پہلا سوال مذہبی آزادی اور تبلیغ کی آزادی کا تھا۔چنانچہ کانگرس سے استفسار کیا گیا کہ تبلیغ اور مذہب تبدیل کرنے کی مکمل آزادی کے بارے میں اس کا موقف کیا ہے؟ کیا وہ اس بات پر تیار ہیں کہ اپنے دستور اساسی میں اس کا واضح الفاظ میں اعلان کریں کہ ہندوستان میں ہر فریق کو مذہب اور تبلیغ کی آزادی ہوگی۔اس استفسار کا پس منظر یہ تھا کہ برطانیہ کے زیر تسلط ہندوستان میں تو تبلیغ کرنے اور اپنا مذہب تبدیل کرنے کی قانونی آزادی تھی لیکن ہندوستان کی بہت سی ریاستوں میں تبدیلی مذہب پر قانونی قدغن لگائی گئی تھی۔سب سے پہلے ۱۹۳۶ء میں رائے گڑھ میں مذہب تبدیل کرنے کے خلاف قانون سازی کی گئی۔اس کے بعد پٹنہ، اودے پور، بیکانیر، جودھ پور اور دوسری ریاستوں میں ایسے قانون بنائے گئے جس کے نتیجے میں اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنے کا بنیادی حق متاثر ہوتا تھا (۱۱)۔گاندھی جی کا نظریہ تھا کہ جس طرز پر آج کل ہندوستان میں تبلیغ کر کے لوگوں کا مذہب تبدیل کیا جارہا ہے وہ شاید دنیا میں امن قائم کرنے اور دنیا کی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ایک عیسائی اس بات کی کوشش کیوں کرتا ہے کہ ایک ہندو عیسائی ہو جائے وہ اس بات پر مطمئن کیوں نہیں ہوتا کہ ایک ہندو ہندو رہتے ہوئے اچھا اور خدا رسیدہ انسان بن جائے۔(۱۲) وہ اس