سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 130 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 130

130 کے اور باوجود ان عداوتوں کے ایک حد بندی بھی مقرر کی گئی تھی جس کو تجاوز نہیں کیا جاتا تھا۔لیکن اب کوئی حد بندی نہیں رہی۔کون کہہ سکتا ہے کہ وہ شہر جس پر اس قسم کی بمباری کی گئی ہے وہاں عورتیں اور بچے نہیں رہتے تھے اور کون کہہ سکتا ہے کہ لڑائی کی ذمہ داری میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔اگر جوان عورتوں کو شامل بھی سمجھا جائے تو کم از کم بلوغت سے پہلے کے لڑکے اور لڑکیاں لڑائی کے کبھی بھی ذمہ دار نہیں سمجھے جا سکتے۔پس گو ہماری آواز بالکل بیکار ہو لیکن ہمارا مذہبی اور اخلاقی فرض ہے کہ ہم دنیا کے سامنے اعلان کر دیں کہ ہم اس قسم کی خون ریزی کو جائز نہیں سمجھتے۔خواہ حکومتوں کو ہمارا یہ اعلان برا لگے یا اچھا۔‘ (۹) پھر حضور نے فرمایا اور جب دنیا کے خیالات اس طرف مائل ہوں گے کہ جتنے زیادہ خطر ناک ہتھیار ملتے جائیں۔ان کو استعمال کرو۔تو لازماً دنیا میں فساد جنگ اور خون ریزی بڑھے گی۔پس میرا یہ مذہبی فرض ہے کہ میں اس کے متعلق اعلان کر دوں۔گو حکومت اسے برا سمجھے گی۔لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ امن کے رستے میں یہ خطرناک روک ہے۔اس لیئے میں نے یہ بیان کر دیا ہے کہ ہمیں دشمن کے خلاف ایسے مہلک حربے استعمال نہیں کرنے چاہئیں جو اس قسم کی تباہی لانے والے ہوں۔ہمیں صرف وہی حربے استعمال کرنے چاہئیں جو جنگ کے لیے ضروری ہوں۔‘ (۱۰) ہندوستان میں انتخابات کا اعلان اور مسلم لیگ کی حمایت کا فیصلہ: اس تباہی کے ساتھ دوسری جنگِ عظیم کا اختتام ہو گیا۔اور اب تاریخ کا ایک اہم باب شروع ہو رہا تھا۔اس وقت ایشیا اور افریقہ کے بہت سے ممالک یوروپی طاقتوں کے تسلط میں تھے۔اب ان کی آزادی کے دن قریب آرہے تھے۔ستمبر ۱۹۴۵ء میں وائسرائے ہند نے اعلان کیا کہ اس سال کے آخر اور اگلے سال کے آغاز پر ہندوستان میں انتخابات کرائے جائیں گے۔اس وقت کے قانون کے مطابق ہر مذہب کے لوگ علیحدہ علیحدہ اپنے نمایندوں کا انتخاب کرتے تھے۔یہ بات تو واضح تھی کہ ہندوسیٹوں پر کانگرس بھاری اکثریت سے کامیاب ہو جائے گی لیکن ویول سکیم کے نتیجے میں پیدا