سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 129 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 129

129 خود تحریر کرتے ہیں کہ انہوں نے اس وقت جہاز کے عملے کو مخاطب کر کے کہا " This is the greatest thing in history یعنی یہ تاریخ کا عظیم ترین واقعہ ہے۔حیرت ہے کہ وہ عظیم ترین واقعے اور بھیانک ترین واقعے میں فرق نہیں کر پارہے تھے۔اس کے بعد صدر امریکہ نے خود جہاز کے عملے کو اور وہاں پر موجود فوجی افسران کو یہ خبر سنائی۔پھر جہاز پر ہی ایک پریس کا نفرنس منعقد کی گئی جس میں صدر ٹرومین نے اس کامیابی کا اعلان کیا۔جب فتح کے شادیانے بجائے جارہے ہوں تو بسا اوقات لاکھوں انسانوں کی چیخ و پکار بھی سنائی نہیں دیتی۔(۸) جب تین دن گذر گئے اور جاپان نے ہتھیار نہیں ڈالے تو پھر دوسرے بم کو گرانے کا فیصلہ کیا گیا۔اب کے پائیلٹ کو ہدایت تھی کہ وہ جاپان کے شہر Kokura پر یہ بم گرائے۔جہاز شہر کے اوپر پہنچ گیا تو شہر بادلوں میں چھپا ہوا تھا۔تین مرتبہ شہر پر سے گذرنے کے باوجود پائیلٹ کو موقع نہ ملا ، جہاز کا ایندھن ختم ہو رہا تھا۔مجبوراً جہاز کا رخ ثانوی ٹارگٹ ناگاسا کی کی طرف کر دیا گیا۔یہاں بھی بادل چھائے ہوئے تھے۔مگر پائیلٹ کو ان بادلوں میں ایک سوراخ نظر آیا اور جہاز نے نیچے آکر بم کو ناگا ساکی پر گرا دیا۔ناگاساکی کا بھی وہی حشر ہوا جو ہیروشیما کا ہو چکا تھا۔چند ہی لمحوں میں ۷۵۰۰۰ افراد لقمہ اجل بن گئے۔بعد میں تقریباً اتنے ہی زخموں سے اور ریڈیائی شعاؤں سے ہلاک ہوئے۔اب یہ واضح نظر آرہا تھا کہ اگر جاپان نے ہتھیار نہ ڈالے تو ایک ایک کر کے اس کے تمام شہر تباہ کر دیئے جائیں گے۔ناگا ساکی کے سانحے کے معاً بعد جاپان کی حکومت نے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کر دیا۔تاریخ عالم کی سب سے خوفناک جنگ ختم ہو رہی تھی۔لیکن اس کے آخری دنوں میں خون کی وہ ہولی کھیلی گئی کہ جس کے داغ آج تک انسانیت کے دامن کو بدنما بنارہے ہیں۔ایٹم بم کو استعمال کرنے کا فیصلہ صحیح تھا یا غلط۔اس وقت بھی اس مسئلے پر متضاد آراء سامنے آرہی تھیں اور آج تک اس پر بحث مباحثے ہوتے رہتے ہیں۔سانحہ ناگاساکی کےاگلے روز حضور نے خطبہ جمعہ میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا یہ ایک ایسی تباہی ہے جو جنگی نقطہ گاہ سے خواہ تسلی کے قابل سمجھی جائے لیکن جہاں تک انسانیت کا سوال ہے اس قسم کی بمباری کو جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ہمیشہ سے جنگیں ہوتی چلی آئی ہیں۔اور ہمیشہ سے عداوتیں بھی رہی ہیں۔لیکن باوجود ان جنگوں