سلسلہ احمدیہ — Page 126
126 ہوئے فرمایا کہ صرف گاندھی جی اور پنڈت جواہر لال نہرو کو دیکھ کر یہ خیال کر لینا کہ ہندوستان ترقی کر رہا ہے محض حماقت ہے اور چند بڑے لیڈروں کی وجہ سے یہ سمجھ لینا کہ ہندوستان میں آزادی کی روح پیدا ہوگئی ہے ایک جہالت کی بات ہے۔یہ دور اس وقت تک نہیں بدلے گا جب تک ان کے ذہنوں سے یہ نکل نہ جائے کہ ہم غلام ہیں۔آپ نے ان الفاظ میں سیاسی لیڈروں کو یکجہتی سے کام لینے کی اپیل فرمائی چالیس کروڑ انسانوں کی ذہنیت نہایت خطرناک حالت میں بدل چکی ہے۔نسلاً بعد نسل وہ ذلت اور رسوائی کے گڑھے میں گرتے چلے جاتے ہیں۔وہ انگریز جس نے ہندوستان پر قبضہ کیا ہوا ہے۔وہ ہندوستان کو آزادی دینے کا اعلان کر رہا ہے۔لیکن سیاسی لیڈر آپس میں لڑ رہے ہیں۔کہ تمہارے اتنے ممبر ہونے چاہئیں اور ہمارے اتنے۔اگر ہندوستان کی سچی محبت ان کے دلوں میں ہوتی تو میں سمجھتا ہوں ان میں سے ہر شخص کہتا کہ کسی طرح ہندوستان آزاد ہو جائے۔کسی طرح چالیس کروڑ انسان غلامی کے گڑھے سے نکل آئے۔چلو تم ہی سب کچھ لے لو مگر ہندوستان کی آزادی کی راہ میں روڑے مت اٹکاؤ۔(۶) وائسرائے نے اس سکیم پر مذاکرات کے لئے اہم سیاسی لیڈروں کو شملہ مدعو کیا اور بہت سی امیدوں اور خدشات کے درمیان ۲۵ جون ۱۹۴۵ء کو وائسرائے لاج کے بال روم میں اس کا نفرنس کا آغاز ہوا۔ہندوستان کے بائیں چیدہ چیدہ لیڈر اس میں شرکت کر رہے تھے۔کانگرس کی نمایندگی ابوالکلام آزاد کر رہے تھے اور گاندھی جی بھی مذاکرات میں شرکت کے لئے شملہ آئے ہوئے تھے۔مسلم لیگ کی نمایندگی قائد اعظم محمد علی جناح صاحب کر رہے تھے۔تمام پیش رفت ایک ہی اختلافی نقطے پر آکر رک جاتی تھی۔مسلم لیگ کا دعوی تھا کہ وہ مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ہے اور نئی کابینہ میں مسلمانوں کی تمام نشستوں پر اس کے مقرر کردہ وزراء مقرر ہونے چاہئیں۔جبکہ ہندوؤں کے لئے مخصوص نشستوں پر کانگرس کے نامزد کردہ وزراء مقرر ہوں۔لیکن کانگرس کا اصرار تھا کہ مسلم لیگ ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتی۔اس لئے تمام مسلمان وزراء مسلم لیگ سے نہیں لئے جا سکتے۔اور بہت سے علماء بھی کانگرس کے موقف کی حمایت کر رہے تھے۔آخر میں وائسرائے ویول کی رائے تھی کہ پانچ مجوزہ مسلمان وزراء میں سے چار مسلم لیگ کے ہوں اور ایک