سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 119 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 119

119 ترجمه و تفسیر قرآن انگریزی کی اشاعت جیسا کہ تفسیر کبیر کی اشاعت کا ذکر کرتے ہوئے ہم یہ جائزہ لے چکے ہیں کہ انگریزی زبان بولنے والی اقوام اور دیگر مغربی اقوام تک جو قرآن کریم کے تراجم پہنچے وہ زیادہ تر پادریوں نے یا ایسے اشخاص نے کئے تھے جو عیسائیت کی تبلیغ کے لئے کوشاں تھے۔اور اسلام کو اپنے مقاصد کی راہ میں ایک رکاوٹ سمجھتے تھے۔اس کے علاوہ انہیں عربی زبان کا زیادہ علم بھی نہیں تھا۔ان وجوہات نے ان کے تراجم کو غیر معیاری بنا دیا تھا۔بہت سے مقامات پر ترجمہ اصل متن سے زیادہ مترجم کی مخالفت کی عکاسی کر رہا ہوتا تھا۔اس پر مستزاد یہ کہ ان تراجم کے ساتھ ان مصنفین کے تشریحی نوٹس بھی شامل تھے۔ان نوٹس کا مقصد اسلام ، رسول کریم ﷺ اور قرآنی تعلیمات پر حملہ کرنا ہوتا تھا۔اس طرح ان اقوام تک اسلام کی غلط تصویر پہنچی اور ان کے دلوں میں اسلام کے متعلق منفی جذبات راسخ ہو گئے۔ان تراجم کے متعلق حضرت مصلح موعود تحریر فرماتے ہیں۔(1) اس وقت تک قرآنِ کریم کے جس قدر انگریزی تراجم غیر مسلموں نے کیے ہیں وہ سب کے سب ایسے لوگوں نے کیے ہیں جو عربی زبان سے یا تو بالکل ناواقف تھے یا بہت ہی کم علم عربی زبان کا رکھتے تھے۔اس وجہ سے قرآن کریم کا ترجمہ کرنا تو الگ رہا وہ اس کا مفہوم بھی اچھی طرح سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔اور بعض نے تو کسی اور زبان کے ترجمہ سے اپنی زبان میں ترجمہ کر دیا تھا۔جس کی وجہ سے مفہوم اور بھی حقیقت سے دور جا پڑا تھا۔(۲) مزید خرابی اُن تراجم میں یہ تھی کہ ان تراجم کی بنیاد عربی لغت پر نہیں تھی بلکہ تفسیروں پر تھی۔اور تفسیر ایک شخص کی رائے ہوتی ہے۔جس کا کوئی حصہ کسی کے نزدیک قابلِ قبول ہوتا ہے اور کوئی حصہ کسی کے نزدیک۔اور کوئی حصہ مصنف کے سوا کسی کے نزدیک بھی قابلِ قبول نہیں ہوتا۔اس قسم کا ترجمہ ایک رائے کا اظہار تو کہلاسکتا ہے حقیقت کا آئینہ دار نہیں کہلا سکتا۔(۱) اس سے قبل قرآن کریم کے متعدد انگریزی تراجم موجود تھے۔ایک انگریز جارج سیل نے