سلسلہ احمدیہ — Page 94
94 دعوی مصلح موعود اب ہم احمدیت کی تاریخ کے اس موڑ پر پہنچ چکے ہیں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک عظیم الشان پیشگوئی پوری ہو کر تمام دنیا کے لئے نشان بنی اور اس کے ساتھ ہی سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی مظفر و منصور خلافت کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔اس نشان کی عظمت کو سمجھنے کے لئے ہم پہلے اس کے پس منظر کا جائزہ لیں گے۔اور اس دور سے گذریں کے جب خدا کا پیارا مسیح تن تنہا پوری دنیا تک خدا کا پیغام پہنچا رہا تھا۔اسلام کی صداقت کو ظاہر کرنے اور دنیا کو زندہ خدا کا چہرا دکھانے کے لئے حضرت مسیح موعود نے پوری دنیا کو دعوت دی کے اگر کوئی طالب صادق بن کر ، ایک سال کے لئے قادیان میں آکر رہے تو وہ ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خارق عادت نشان دیکھ لے گا۔اس کے جواب میں ۱۸۸۵ء میں قادیان کے دس ہندو ساہوکاروں نے آپ کی خدمت میں لکھا کہ ، ہمسایہ ہونے کے ناطے ان کا اولین حق ہے کہ ان کو نشان دکھایا جائے۔اور ایک سال کے عرے کے اندر ان کو کسی ایسی پیشگوئی کا گواہ بنایا جائے جو بعد میں خارق عادت طریق پر پورا ہو کر ان کے لئے نشان بن جائے۔حضرت مسیح موعود نے اس بات کو خوشی سے قبول کر لیا۔اس وقت تک پنڈت لیکھرام کی کوششوں سے قادیان میں آریہ سماج قائم ہو چکی تھی (۱)۔اس خط و کتابت کو قادیان کے ایک آریہ لالہ شرمیت نے خود شائع کروایا اور لکھا کہ وہ خود بھی اس کے گواہ بنیں گے اور اگر کوئی نشان ظاہر ہوا تو اس کو شائع کریں گے تاکہ حق کے طالب اس سے فائیدہ اٹھائیں اور روز کے جھگڑوں کا فیصلہ ہو۔چنانچہ اس کے معاً بعد ہی ان کو حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی کہ اکتیس ماہ کے اندر اندر حضرت مسیح موعود کے چچا زاد بھائیوں یعنی مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین پر ایک سخت مصیبت پڑے گی اور ان کے اہل وعیال و اولاد میں سے کسی مرد یا عورت کا انتقال ہو جائے گا۔اس پیشگوئی پر نشان نمائی کی دعوت قبول کرنے والوں کے دستخط کرا لئے گئے۔(۱۲) اس نشان نمائی کی دعوت کو قبول کرنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔خدا کے شیر کو للکارا گیا تھا۔اب