سلسلہ احمدیہ — Page 689
689 سور بینام یہاں پر جماعت کے مبلغین کی آمد سے قبل غیر مبایعین کا لٹر پچر پہنچ چکا تھا۔اور بہت سے لوگوں کو وفات مسیح اور حضرت مسیح موعود کی آمد کی خبر مل گئی تھی۔ان میں سے بعض نے ایک انجمن بھی قائم کی تھی جس کا نام Surinam Islamitch Verantaing تھا۔یہ لوگ حضرت مسیح موعود کو ایک بزرگ سمجھتے تھے لیکن نہ آپ کے صحیح مقام کے قائل تھے اور نہ ہی خلافت یا کسی بھی مرکزی ادارے کے تحت قائم کرنے کے لئے تیار تھے۔۱۹۵۳ء میں مکرم مولوی محمد الحق ساقی صاحب اور ٹرینیڈاد کے ایک دوست نے سرینام کا دورہ کیا اور جماعت کو وہاں پر متعارف کرایا۔سورینام میں با قاعده مشن مکرم رشید احمد اسحاق صاحب نے شروع کیا۔ان کے ساتھ ٹرینیڈاڈ کے مبلغ مکرم مولوی محمد اسحاق صاحب ساقی بھی آئے تھے۔شروع میں ان کا قیام ایک مقامی دوست عبد الغفور جمن بخشن صاحب کے گھر میں رہا۔نومبر ۱۹۵۶ء میں مذکورہ بالا انجمن کے دوصد افراد نے جماعت احمد ہی مبایعین میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔اور مزید لوگ بیعت کر کے جماعت میں داخل ہونے لگے۔سورینام میں پہلے احمدی مکرم عبدالعزیز صاحب صاحب جمن بخش تھے جو مکرم عبد الغفور جمن بخش کے صاحبزادے تھے۔اور انہوں نے ۱۹۵۴ء سے ۱۹۵۸ء تک جامعہ احمد یہ ربوہ میں تعلیم حاصل کی اور اسی قیام کے دوران ۱۹۵۵ء میں بیعت بھی کی۔اس کے بعد آپ کو سورینام میں ہی مبلغ مقرر کیا گیا۔جہاں آپ نے ۱۹۶۲ء تک بطور مبلغ کام کیا۔یہاں پر جہاں جہاں کچھ لوگ احمدیت قبول کرتے وہاں پر ایک سینٹر بن جاتا اور بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ایک سینٹر بنا دیا جاتا۔ان مقامات میں سے قابلِ ذکر سارون، پارا نہی سینٹر ھنسو، کنڈال ، افرام سخنین قابل ذکر ہیں۔۱۹۶۲ء میں مرکزی مبلغ نہ ہونے کی وجہ سے سورینام کو گی آنا مشن کے ماتحت کر دیا گیا اور اس طرح اس نئی جماعت کو ضعف پہنچا اور ان میں سے کئی کا رابطہ جماعت سے منقطع ہو گیا۔مگر ان میں سے تین خاندان یعنی بید اللہ صاحب کا خاندان بالخصوص آپ کی اہلیہ نصیرہ صاحبہ محمود عبد المطلب صاحب کا خاندان اور محمد اسحاق صاحب کا خاندان بہت ثابت قدم