سلسلہ احمدیہ — Page 643
643 سے میرا فلاں شاگر د مناظرہ کرے گا۔لیکن ان کا شاگرد بھی نمودار نہ ہوا۔انہیں جواب دیا گیا کہ آپ زہریلی تقاریر تو یہاں کر رہے ہیں پاکستان جا کر مناظرہ کرنے سے کیا حاصل ہوگا اور اگر آپ کے نزدیک یہاں پر کوئی اس قابل ہی نہیں تھا کہ آپ سے مناظرہ کرے تو آپ نے نیروبی آنے کی زحمت ہی کیوں کی تھی؟ لیکن صدیقی صاحب خاموش ہی رہے۔(۲۰) مارچ ۱۹۵۰ء میں کینیا میں لوانڈا (Luanda) کے علاقہ میں جماعت کا قیام عمل میں آیا۔کینیا کے اہم شہر کسومو میں جماعت تو پہلے سے قائم تھی ۱۹۵۳ء میں یہاں پر مشن اور مشن ہاؤس کی بنیاد رکھی گئی یہ عمارتیں اگلے سال مکمل ہو گئیں۔(۲۱) اور ۱۹۵۴ء میں تنزانیہ کے دارالحکومت دار السلام میں بھی جماعت کی مسجد کی تعمیر شروع ہوئی۔حسب سابق یہاں بھی مخالفین نے رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوششیں کیں مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی کوئی پیش نہ گئی۔۱۹۵۷ء میں یہ مسجد مکمل ہو گئی اور حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے از راہ شفقت اس کا نام مسجد سلام رکھا۔افتتاح کی تقریب میں عیسائی ، ہندو اور سکھ تو شریک ہوئے مگر سنیوں کی طرف سے اس کا بائیکاٹ کیا گیا۔(۲۲) اب اس بات کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ مشرقی افریقہ سے طلباء دین کا علم حاصل کرنے کے لئے مرکز آئیں اور خلیفہ وقت کے قریب رہ کر برکات حاصل کریں۔چنانچہ ۱۹۵۵ء میں تنزانیہ سے دو طلباء جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے ربوہ آئے۔ان میں سے مکرم یوسف صاحب نے کئی سال مرکز میں قیام کر کے شاہد کی ڈگری حاصل کی اور وطن واپسی پر آپ کو پہلے Bukoba ریجن اور پھر موانزا ریجن (Mwanza) میں مقرر کیا گیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کو ایک طویل عرصہ خدمت کی توفیق ملی۔(۲۳) یوگنڈا کے مقامی احباب میں بھی سعید روحیں احمدیت میں داخل ہو رہی تھیں۔یہاں پر سب سے پہلے مکرم ذکر یا کزیٹو صاحب نے احمدیت قبول کی اور آپ کے والد نے آپ کو شیخ مبارک احمد صاحب کے پاس دینی تعلیم کے لئے بھجوایا تھا اور آپ نے ۱۹۴۰ء میں احمدیت قبول کر لی اور تقسیم ہند سے پہلے قادیان بھی گئے۔ان کے علاوہ شروع میں بعض علماء نے بھی احمدیت قبول کی تھی۔مثلاً شیخ ابراہیم سنفو نا صاحب (Senfuna) ایک عالم شخص اور جہ میں غیر احمدیوں کی مسجد کے امام تھے