سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 555 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 555

555 فرمائی کہ اگر حضور قرآن کریم کا ترجمہ کر دیں تو وہ اسے قاعدہ یسر نا القرآن کی طرز پر شائع کر دیں گے۔ان کی تحریک پر حضور نے ۱۹۳۸ء میں قرآن کریم کے ترجمے کا کام شروع فرمایا۔اور اُس وقت سات آٹھ سیپاروں کا ترجمہ مکمل بھی کرلیا گیا (۱) مگر پھر اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے تحت یہ اہم کام ایک لمبا عرصہ کے لئے معرض التواء میں پڑ گیا۔حتی کہ ۱۹۵۶ء کا سال آ گیا۔قاتلانہ حملہ اور پھر بیماری کے حملے کے بعد حضرت مصلح موعودؓ کی صحت بہت کمزور ہو چکی تھی۔ڈاکٹروں کا اصرار تھا کہ حضور کی صحت کے لئے ضروری ہے کہ حضور مکمل آرام فرما ئیں اور ہر قسم کی کوفت اور پریشانی سے اپنے آپ کو بچائیں۔جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے اسی سال جماعت میں نظامِ خلافت کے خلاف فتنہ کھڑا کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔حضور نے دن رات اس فتنہ کی سرکوبی فرمائی حتی کہ اس فتنہ کا تارو پود بکھر کر عبرت کا سامان بن گیا۔اور اس کے ساتھ حضور نے قرآنِ کریم کے ترجمہ کا کام پھر سے شروع فرما دیا۔اور اس کی وجہ سے حضور کو متواتر دن رات کام کرنا پڑا۔اور ان تمام امور کے ساتھ جماعت کے دیگر امور کی نگرانی بھی ساتھ کے ساتھ ہو رہی تھی۔۱۹۵۶ء میں حضورڑ نے اس ترجمہ کو دوبارہ شروع فرمایا۔اس ترجمہ کی طرز تفسیری ترجمہ کی رکھی گئی تا کہ پڑھنے والے قرآنی معارف سے استفادہ کر سکیں۔اور مختصر تشریحی نوٹس بھی دیئے گئے۔حضور نے یہ کام مری اور جابہ میں قیام کے دوران مکمل فرمایا۔گو یورپ سے واپسی کے وقت آپ کی صحت وقتی طور پر کچھ بہتر ہوئی تھی مگر طبیعت میں کافی کمزوری باقی تھی ڈاکٹر مشورہ دیتے تھے کہ آپ آرام فرما ئیں مگر آپ کو ایک ہی دھن تھی کہ قرآنِ کریم کے ترجمہ کا کام جلد ختم ہو جائے۔حضرت سیدہ مریم صدیقہ اس ترجمہ کی املاء لیتی تھیں اور جب آپ کو کوئی کام ہوتا تو حضور مولوی محمد یعقوب صاحب کو تر جمہ لکھواتے۔حضور اس کام کو جلد ختم کرنے کے لئے اس قدر فکر مند تھے جب آخری سورتوں کا ترجمہ لکھوایا جا رہا تھا تو حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ کو بخار ہو گیا۔آپ نے حضور سے گذارش کی کہ میں نے دوائی کھائی ہے آج یا کل بخار اتر جائے گا۔دو دن آپ بھی آرام کرلیں اور آخری حصہ مجھ سے ہی لکھوائیں تا کہ میں ثواب حاصل کر سکوں۔مگر حضور نہیں مانے کہ میری زندگی کا کیا اعتبار۔تمہارے بخار اترنے کے انتظار میں اگر مجھے موت آجائے تو ؟ اور پھر سارا دن ترجمہ اور نوٹس لکھواتے رہے اور شام کے قریب تفسیر صغیر کو ختم کر دیا۔