سلسلہ احمدیہ — Page 514
514 یہ غرض ہے کہ وہ ظاہر کرے کہ جماعت کس طرح آپ کے پیچھے پیچھے چلتی ہے۔یا جب آپ کسی خاص طرف مڑیں تو وہ کس سرعت سے آپ کے ساتھ مڑتی ہے۔یا جب آپ اپنی منزلِ مقصود کیطرف جائیں۔تو وہ کس طرح اسی منزل مقصود کو اختیار کر لیتی ہے۔جب وہ فرشتہ یہ کہ رہا تھا تو میری آنکھوں کے سامنے جلا ہوں کی ایک لمبی تانی آئی جو بالکل سیدھی تھی۔اور میرے دل میں ڈالا گیا۔کہ یہ صراط مستقیم کی مثال ہے جس کی طرف آپکو خدا لے جا رہا ہے۔اور ہر فتنہ کے موقع پر وہ دیکھتا ہے کہ کیا جماعت بھی اسی صراط مستقیم کی طرف جارہی ہے کہ نہیں۔(۴۸) جیسا کہ ۱۹۵۳ء کے حالات کے بیان میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ مختلف اخبارات اور رسائل نے صوبائی حکومت سے مالی مدد وصول کر کے ایک سازش کے تحت جماعت کی منظم مخالفت کی تھی اور تحقیقاتی عدالت نے اپنی رپورٹ میں اس سازش کی تفاصیل درج کی تھیں۔اب ایک بار پھر مختلف اخبارات اُسی پرانے انداز میں جماعت کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔فتنہ پروروں کا جھوٹا پراپیگنڈا بہت اہتمام سے شائع کیا جاتا تھا اور جماعت کی طرف سے اس کی تردید شائع نہ کی جاتی۔الفضل میں تردید تو شائع ہو جاتی مگر ملکی اخبارات نے جماعت احمدیہ کے بیانات کا بائیکاٹ کیا ہوا تھا۔یہاں تک بھی ہوتا کہ ایک شخص کے متعلق اخبار کو ہستان میں شائع ہوتا کہ ربوہ میں اُس پر بہت ظلم کئے جارہے ہیں کیونکہ وہ عبدالمنان عمر صاحب کے دفتر میں کام کرتا تھا حتی کہ خلیفہ صاحب کے حکم پر اُس کے بیوی بچے بھی اُس سے چھین لئے گئے ہیں اور اُس بیچارے کو اس کی کانوں و کان خبر بھی نہ ہوتی اور ملکی اخبارات کے دروازے تردید شائع کرنے کے لئے بند ہوتے، چنانچہ وہ شخص الفضل میں تردید شائع کراتا کہ مجھ پر کوئی ظلم نہیں ہوا، میرے بیوی بچے تو میرے پاس ہیں (۴۹ تا ۶۷)۔لیکن ان اخبارات کے جھوٹے پراپیگنڈے کے پیچھے بھی سطحی ذہنیت نظر آتی تھی۔یہ جھوٹ بھی اس طرح بولتے تھے کہ صاف نظر آئے کہ جھوٹ بولا جا رہا ہے۔اخبار کوہستان نے اگست میں یہ سنسنی خیز خبر شائع کی کہ ربوہ میں مظالم اتنے بڑھ گئے ہیں کہ ، میاں عبدالمنان عمر ( مرزا ناصر کے متوقع حریف) کی امریکہ کو روانگی کے وقت جو لوگ انہیں الوداع کہنے کے لئے گئے تھے ان کی فہرست تیار کی جارہی ہے۔اور یہ بھی انتظامات کئے جارہے ہیں کہ کسی طرح انہیں مجبور کر کے اظہار ندامت