سلسلہ احمدیہ — Page 471
471 کہ یہ انٹرویو عید کے موقع پر ریکارڈ کیا جائے گا مگر چند دقتوں کے باعث ایسا نہیں ہوسکا۔پھر براه راست انٹر ویو نشر کرنے کا پروگرام بنا۔۸ جون ۱۹۵۵ء کو حضور رات نو بجے سے قبل ٹی وی سٹیشن تشریف لے گئے اور پہلے سٹودیو کے دفتر میں ٹیلی ویژن کے پروگرام ملاحظہ فرماتے رہے۔Dr۔Tilgenkamp حضور کا انٹرویو کر رہے تھے۔انہوں نے پہلے حضور کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے تعارف کرایا۔حضور نے جواب میں اُن کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا کہ میں سولیس لوگوں کا شکر یہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اتنا شاندار ہسپتال بنایا ہے جہاں انسان اُن بیماریوں کا علاج بھی کرا سکتا ہے جن کے علاج کے لئے اُس کے اپنے ملک میں سہولتیں مہیا نہیں ہیں۔ایک سوال کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ رمضان ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ بڑائی حاصل کرنے سے پہلے ہمیں قربانی کرنی چاہیئے۔یورپ میں اپنے دورہ کے پروگرام کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ آپ یورپ میں اپنے مشنوں کا دورہ بھی فرمائیں گے اور مزید نئی جگہوں مثلاً اٹلی اور فرانس میں بھی مشن کھولنے کا ارادہ ہے۔آپ نے فرمایا کہ احمدیت اسلام کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے اور اسلام کی صحیح شکل دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے وجود میں آئی ہے۔یہ پہلا موقع تھا کہ خلیفہ وقت کا انٹرویوٹی وی پر نشر ہوا تھا اور یہ اعزاز سولیس ٹی وی کے حصے میں آیا۔(۲۴) اس دوران بھی حضور ضروری ڈاک ملاحظہ فرماتے رہے اور یورپ میں تبلیغ اسلام کو وسیع کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور رہا۔حضور نے ہدایت فرمائی کہ امریکہ کے دو پرانے مبلغین اور یورپ کے مبلغین کو اطلاع دے دی جائے کہ وہ تیار رہیں انہیں تار دے کر یورپ میں ہونے والی مبلغین کی کانفرنس کے لئے بلا لیا جائے گا (۲۶)۔اس وقت حضرت چوہدری صاحب عالمی عدالت انصاف کے جج تھے اور ہالینڈ میں مقیم تھے۔اور اس سفر میں حضور کے آرام کی خاطر حضور کے ہمراہ رہتے اور سیر کے دوران بھی حضور کی گاڑی میں اگلی سیٹ میں بیٹھتے۔ڈاکٹر نے حضور کو دیہی علاقے میں سیر کا مشورہ دیا تھا۔اس لئے چوہدری صاحب خود حضور کے سفر کے لئے ایسے راستے کا انتخاب کرتے جو پر فضا دیہاتی علاقے سے گذرتا ہو۔حضور بھی حضرت چوہدری صاحب پر بہت شفقت فرماتے۔ذیا بیطیس کی وجہ سے حضرت چوہدری صاحب کو راستے میں کچھ کھانے کی ضرورت پڑتی تھی۔حضور روانہ ہونے سے قبل