سلسلہ احمدیہ — Page 383
383 گے تو یہ احرار کے نزدیک کیا ارتداد نہیں ہوگا بلکہ عین اسلام کے مطابق ہوگا۔اور اس کے نتیجے میں اُن کے کان پر جوں بھی نہیں رینگے گی۔جب جماعت کے خلاف اس قسم کی تحریک کا آغاز ہوتا ہے تو جلد دوسرے گروہ بھی اس میں شامل ہونے لگتے ہیں اور احمدیت کے خلاف اپنی سرگرمیاں تیز کر دیتے ہیں۔اس سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ تا کہ وہ بھی اس آڑ میں اپنے سیاسی مقاصد حاصل کریں۔چنانچہ ۱۹۵۱ء میں بھی یہی تاریخ دہرائی جا رہی تھی۔جماعتِ اسلامی کا جماعت احمدیہ سے ایک بنیادی نظریاتی اختلاف تھا۔جماعت احمدیہ کا پختہ ایمان ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مہدی کی آمد کے متعلق جو پیشگوئیاں فرمائیں وہ برحق ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات میں وہ پیشگوئیاں پوری ہو کر ایک نشان بن گئیں۔مہدی کی آمد کے متعلق پیشگوئیوں کے بارے میں جماعت اسلامی کے بانی مودودی صاحب ایک مخمصے میں مبتلا رہے۔اپنی تحریروں میں ایک طرف تو وہ ان پیشگوئیوں کو غیر معتبر قرار دیتے ہیں اور ان پیشگوئیوں کے مسلمانوں کے نظریات کے متعلق تمسخر کرتے ہیں۔اور یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ یہ پیشگوئیاں چونکہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نہیں اس لئے قابلِ اعتبار نہیں اور دوسری طرف اس خیال کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ آنے والا مہدی اپنی طرز کا جدید ترین لیڈر ہو گا۔وقت کے تمام علوم جدیدہ پر اسے مجتہدانہ بصیرت حاصل ہوگی۔جنگی مہارت ایسی حاصل ہوگی کہ وہ اپنی جنگی مہارت کا تمام دنیا پر سکہ بیٹھا دے گا۔بہت جدید خیالات کا حامل ہوگا۔آمد مہدی کے متعلق مسلمانوں میں رائج خیالات پر طنز کرتے ہوئے اور ان خیالات کا مذاق اُڑاتے ہوئے مودودی صاحب مہدی کے متعلق لکھتے ہیں د تلوار تو محض شرط پوری کرنے کے لیے برائے نام چلانی پڑے گی۔اصل میں سارا کام برکت اور روحانی تصرف سے ہوگا پھونکوں اور وظیفوں سے میدان جیتے جائیں گے۔“ گویا مودودی صاحب کے نزدیک اصل مقصد تو تلوار چلانا ہے۔اور پھر لکھتے ہیں مہدی کے کام کی نوعیت کا تصور جو میرے ذہن میں ہے وہ بھی ان حضرات کے تصور سے بالکل مختلف ہے مجھے اس کے کام میں کرامات وخوارق کشوف والہامات اور چلوں اور مجاہدوں کی کوئی جگہ نظر نہیں آتی۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایک انقلابی لیڈر کو دنیا میں