سلسلہ احمدیہ — Page 268
268 ہوں۔حکومت کے کام کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔میرا خیال ہے اب ہمیں اس چیز کو اپنے مح نظر کے طور پر اپنے سامنے رکھنا چاہئیے۔آپ دیکھیں گے کہ وقت کے ساتھ ہندو ہندو نہیں رہے گا اور مسلمان مسلمان نہیں رہے گا۔ایسا مذہبی طور پر نہیں ہو گا ، کیونکہ وہ ہر فرد کے ذاتی ایمان کا معاملہ ہے۔مگر ایسا سیاسی طور پر پاکستان کے شہری کی حیثیت سے ہوگا۔(۱۳) اگر پہلے کسی کے دل میں کوئی شک بھی تھا تو اس تقریر کے بعد دور ہو گیا کہ قائد اعظم پاکستان میں مولوی خیالات کے لوگوں کا تسلط کبھی برداشت نہیں کریں گے۔اور آپ کی سربراہی میں پاکستان کی ریاست میں ، حکومت کا مذہبی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔یہ ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہو گا۔پھر ڈھا کہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ آپ جو کچھ بھی ہیں آپ مسلمان ہیں اور ایک قوم سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ ملک پنجابی ،سندھی ، پٹھان یا بنگالی کا نہیں ، یہ آپ کا ملک ہے۔آپ نے واضح کیا کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔پاکستان کوئی مذہبی ریاست یا اس سے ملتی جلتی کوئی چیز ہے۔اسلام ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم دوسروں کے عقائد کو برداشت کریں۔اور ہم ہر اُس شخص کو جو پاکستان کے بیچے اور وفادار شہری کے طور پر ہمارے ساتھ کام کرنے کے لئے تیار ہے اپنے قریب ترین ساتھی کے طور پر خوش آمدید کہتے ہیں۔(۱۴) فروری ۱۹۴۸ء میں امریکہ کے لوگوں کو اپنا خطاب ریکارڈ کراتے ہوئے آپ نے فرمایا اسلام اور اس کے نظریات ہمیں جمہوریت سکھاتے ہیں۔اور اسی نے ہمیں انسانوں میں مساوات عدل اور ہر ایک سے انصاف کا برتاؤ سکھایا ہے۔۔ہم ایک عظیم روایت کے وارث ہیں اور پاکستان کے آئین کو بنانے والوں کی حیثیت سے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا پورا احساس ہے۔بہر حال پاکستان کو مذہبی ریاست نہیں بنایا جائے گا۔جس پر پجاری کسی آسمانی مشن کے ساتھ حکومت کر رہے ہوں۔ہمارے پاس غیر مسلم ، ہندو ، عیسائی اور پارسی بھی ہیں۔مگر وہ سب پاکستانی ہیں۔ان کو پاکستان کے باقی شہریوں کی طرح تمام حقوق اور مراعات حاصل ہوں گی اور وہ پاکستان کے معاملات میں اپنا استحقاق استعمال